BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر کا حل جانتا ہوں‘

مشرف
’تمام ممکنہ حل منظر عام پر لائے جائیں‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا وہ ایسا حل جانتے ہیں جو بھارت کو بھی قابل قبول ہوسکتا ہے۔

’ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن، کے زیر اہتمام چھ روزہ ’ساؤتھ ایشین پارلیمینٹ، کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بطور صدر ان کی اور بطور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مدت کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ’ٹائم فریم، طئے کرنا ہوگا۔

صدر نے اس موقع پر تفصیل سے تمام امور پر کھل کر باتیں کیں اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نیت صاف اور سچی رکھنی ہوگی اور محض مشترکہ اعلامیوں سے مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف بیان آتا ہے کہ سرحدوں کی نئے سرے سے حد بندی نہیں ہوسکتی دوسری طرف سے کہتے ہیں کہ کنٹرول لائن مستقل سرحد نہیں بن سکتی۔ ایسے میں صدر نے کہا کہ ایک اور بھی بات ہوتی ہے کہ سرحدوں کو غیرمتعلقہ بنادیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تیسری رائے پر سمجھوتہ کرکے ہی کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ کشمیر سے اگر ہندوستان فوج واپس بلائے تو شدت پسندی از خود ختم ہوجائے گی لیکن پڑوسی ملک والے کہتے ہیں کہ پہلے شدت پسندی ختم ہو۔ ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مرغی اور انڈے والا مسئلہ ہے۔

کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے آخر میں قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا جو وہ حل جانتے ہیں انہوں نے وہ بتایا ہی نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب مسئلہ کشمیر کے حل کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ من موہن سنگھ نے اپنے اور ان کے (صدر) بارے میں ایک بار کہا تھا کہ دونوں اتفاقیہ لیڈر ہیں۔ صدر کے مطابق انہیں نہیں پتہ ہے کہ وہ اتفاقیہ ہیں یا حادثاتی لیڈر، لیکن اب ان رہنماؤں کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کی من موہن سنگھ سے خاصی ہم آہنگی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

صدر نے اس موقع پر کہا کہ وہ پاک بھارت مزاکرات کے عمل کو ناقابل واپسی اس لیے کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی عوام اب اس کو واپس نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کا کہا وہ فوجی وردی میں ہیں لیکن جمھوریت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا کے اہم ممالک میں جمہوریت فوجیوں نے دی ہیں۔ انہوں نے کرام ویل ہوں اور نیپولین بوناپارٹ کا نام لیا۔

انہوں نے پاکستان میں دی گئی جمہوریت کا ذکر کیا اور کہا کہ کسی ملک کے لیے جمہوریت کا کوئی مخصوص فارمولا نہیں چل سکتا۔

اس پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پھر یہ سمجھا جائے کہ نیپال میں ابھی جمھوریت کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس پر حال میں بہت بڑا قہقہہ پڑ گیا اور صدر خود بھی بے ساختہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ نیپال کے بادشاہ سے ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر جہاں جنوبی ایشیا کے صحافیوں کو پاکستان میں آزادانہ طریقے سے گھومنے پھرنے کی اجازت کے بارے میں متعلقہ وزارت کو ہدایات جاری کرنے کا یقین دلایا وہاں میڈیا پر زور دیا کہ وہ بامقصد اور غیر متعصبانہ رپورٹنگ کریں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نئی ممکنہ تجاویز پیش کرے۔

ایک موقع پرصدر نے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی پیشکش پر اب بھی قائم ہیں۔

صدر نے تقریر کے بعد سوالات کی اجازت بھی دی اور ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بطور صدر وہ اپنی مدت سن دوہزار سات تک سمجھتے ہیں اور اس کے بعد کے بارے میں انہوں نے ابھی سوچا ہی نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دو ہزار سات میں وردی اتار دیں گے تو صدر نے ایک قہقہ لگاتے ہوئے کہا ’ہاں اور نہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد