کشمریوں کا وفد کشمیر میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیری زائرین کا بارہ رکنی وفد معروف کشمیری صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی کی زیارت پر حاضری دینے کے لیے اتوار کو پاکستان سے بھارت روانہ ہوگیا ہے ۔ شیخ نورالدین ولی جنہیں علم دار کشمیر بھی کہا جاتا ہے، ان کی درگاہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں چرار شریف میں واقع ہے۔ اس وفد کو گزشتہ ہفتے کے اوائل میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانا تھا لیکن واگہ پر پاکستانی حکام کوئی وجہ بتائِے بغیر وفد کو بھارت میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ گزشتہ پچاس برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے اس طرح کا وفد بھارت کے زیر انتظام کشمیر جارہا ہے اور یہ غیر معولی بات ہے کے بھارت نے اس کے زیر انتظام کشمیر میں صوفی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینے کے لیے پاکستانی کشمیریوں کو ویزہ فراہم کیا ہو۔ اس وفد کے دورے کا اہتمام بھارت کی معروف سماجی کارکن اور بھارتی پالیمان کی رکن نرمیلا دیش پانڈے نے کیا ہے ۔ دس کشمیریوں اور دو پاکستانیوں پر مشتمل یہ وفد پاکستان انڑنیشنل ائیر لائنز کی فلائٹ کے ذریعے سنیچر کے روز لاہور سے دلی روانہ ہوا جہاں سے یہ وفد کشمیری صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری دینے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جائے گا۔ اس وفد میں شامل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک سیاسی جماعت کے رہنما سید بشیر احمد اندرابی کہتے ہیں کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے وہ شیخ نورالدین ولی کی درگاہ پر حاضری دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شیخ نورالدین ولی نے امن ، بھائی چارے،ِ اخوت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیا ہے اور ہمارا وفد بھی یہی پیغام لے کر جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وفد کے اراکین دیگر بزرگوں کے مزاروں پر بھی حاضری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دائمی امن اور دوستی کے لیے دعا کریں گے اور ان دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن کے عمل کی کامیابی اور خاص طور پر کشمیر میں امن کے قیام کے لیے دعا کریں گے۔ اس وفد میں شامل لوگوں کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے کشمیری ہیں جن کا خاندان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بٹے ہوئے ہیں اور ان میں بعض ایسے افراد ہیں جو پہلی بار بھارت کے زیر انتظام کشمر جارہے ہیں ۔ ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لوگ جہاں کشمیر کے صوفی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینا چاہتے ہیں وہاں وہ اپنے خاندان والوں سے ملنے کے لیے بیتاب ہیں۔ ان میں ملک مختار بھی شامل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ان کو گزشتہ پنتالیس برسوں میں پہلی مرتبہ صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ اپنے عزیزوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم ہورہاہے۔ ملک مختار سن 1958 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے اور ان اراکین میں ایک ہیں جو پہلی مرتبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جارہے ہیں۔ ان کا ایک طویل عرصے سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہنے والے رشتہ داروں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ واضع رہے اسلام آباد میں قائم بھارت کے ہائی کمیشن کی طرف سے ویزہ جاری ہونے کے بعد اس وفد کو گزشتہ ہفتے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانا تھا۔ گرچہ اس واقع سے قبل پاکستانی حکام نے اس وفد کو ہندوستان میں داخل ہونے کے لیے پیدل چل کر واگہ سرحد عبور کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس وفد کے اراکین نے اس وقت بتایا تھا کہ جب وہ تیرا اکتوبر کو ہندوستان میں داخل ہونے کے لیے واہگہ سرحد پہنچے تھے تو پاکستان کے امیگریشن کے حکام نے ان کو یہ کہ کر سرحد عبور کرنے سے روک دیا تھا کہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ سے ان کو تحریری ہدایات ملی ہیں کہ وفد کو کسی بھی طرح سرحد عبور نہ کرنے دیا جائے۔ لیکن حکام نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی تھی ۔ اس واقع کے دس روز بعد اب حکومت پاکستان نے اس وفد کو بذریعے ہوائی جہاز بھارت جانے کی اجازت دی ۔ یہ وفد اتوار کو بعد دوپہر لاہور سے پی آئی کے ذریعے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||