BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بین الکشمیری تاریخی وفد

بشیر احمد اندرابی
سید بشیر احمد اندرابی کہتے ہیں کہ انکا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے
کشمیری زائرین کا چودہ رکنی وفد کو جو معروف کشمیری صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی کی درگاہ پر حاضری کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جا رہا ہے۔
شیخ نورالدین ولی، جنہیں علم دار کشمیر بھی کہا جاتا ہے، کی درگاہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چرار شریف میں واقع ہے۔

گذشتہ نصف صدی میں یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے لوگ بھارت کے زیرانتظام کشمیر جا رہے تھے۔

اس وفد کے دورے کا اہتمام بھارتی پارلیمان کی رکن نرمیلا دیش پانڈے کی تنظیم نے کیا تھا۔

اس وفد میں شامل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک سیاسی جماعت کے رہنما سید بشیر احمد اندرابی کہتے ہیں کہ انکا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور وہ شیخ نورالدین ولی کے مزار کی زیارت کرنے جارہے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کشمیری صوفی بزرگ شیخ نووالدین ولی نے امن، دوستی، بھائی چارے، اخوت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیا ہے اور ہمارا وفد بھی یہی پیغام لے کر جارھا تھا۔

مسڑ انداربی کا کہنا ہے کہ وفد دیگر بزرگوں کے مزاروں پر بھی حاضری دینا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دائمی امن، محبت اور اخوت کے لیے دعا کریں گے اور کشمیر میں امن کے قیام کے لیے بھی دعائیں کریں گے۔

اندرابی کے بیشتر خاندان والے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ انکی امید تھی کہ وہ اس دورے میں اپنے عزیز واقارب سے مل سکیں گے۔

اس وفد میں شامل لوگوں کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے اور ان میں بیشتر وہ کشمیری ہیں جن کے خاندان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بٹے ہوئے ہیں۔

ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لوگ جہاں کشمیر کے صوفی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینا چاہتے تھے وہاں انکی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملاقات کریں گے۔

اطہر مسعود
اطہر مسعود وانی کے بیشتر رشتہ دار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں

اس وفد میں شامل انتالیس سالہ اطہر مسعود وانی کے بیشتر رشتہ دار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں اور وہ زندگی میں پہلی دفعہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جارہے تھے۔جانے سے پہلے وہ اتنے خوش تھے کہ وہ کوشش کے باوجود اپنے خوشی کے آنسوں نہیں روک سکے۔

انھوں نے اپنے عزیزوں کو صرف تصویروں میں دیکھا ہے اور ان سے کبھی ملاقات نہیں کی ہے۔ اور ان خواہش تھی کہ وہ اس دورے کے دوران اپنے پیاروں سے بھی ملیں۔ اس وفد میں شامل دیگر کشمیری خاص طور پرمنقسم خاندانوں کے افراد بھی اس طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد