BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 October, 2004, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بین الکشمیری وفد روانہ ہو گیا

بشیر احمد اندرابی
سید بشیر احمد اندرابی کہتے ہیں کہ انکا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے
کشمیری زائرین کا بارہ رکنی وفد کو پاکستان کے زیر انتظام کشیر سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے لیے روانہ ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

وفد معروف کشمیری صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی کی درگاہ پر حاضری کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جا رہا ہے۔

شیخ نورالدین ولی، جنہیں علم دار کشمیر بھی کہا جاتا ہے، کی درگاہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چرار شریف میں واقع ہے۔

گذشتہ نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے لوگ بھارت کے زیرانتظام کشمیر گئے ہیں۔

وفد گزشتہ ہفتے زمینی راستے سے بھارت کے لیے روانہ ہوا تھا لیکن اسے واہگہ پر روک دیا گیا اور سرحدی حکام نے بتایا کے انہیں پاکستانی وزارتِ داخلہ کا واضح حکم ہے کہ وفد کو جانے نہ دیا جائے۔

اس وفد کے دورے کا اہتمام بھارتی پارلیمان کی رکن نرمیلا دیش پانڈے کی تنظیم نے کیا ہے۔

اب یہ وفد سنیچر کو لاہور سے بذریعہ پاکستان انٹرنیشنل لائن دلی روانہ ہوا ہے۔

اس وفد میں شامل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک سیاسی جماعت کے رہنما سید بشیر احمد اندرابی کہتے ہیں کہ انکا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور وہ شیخ نورالدین ولی کے مزار کی زیارت کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ کشمیری صوفی بزرگ شیخ نووالدین ولی نے امن، دوستی، بھائی چارے، اخوت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیا ہے اور ہمارا وفد بھی یہی پیغام لے کر جارہا ہے۔

مسڑ انداربی کا کہنا ہے کہ وفد دیگر بزرگوں کے مزاروں پر بھی حاضری دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دائمی امن، محبت اور اخوت کے لیے دعا کریں گے اور کشمیر میں امن کے قیام کے لیے بھی دعائیں کریں گے۔

اندرابی کے بیشتر خاندان والے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ انکی امید تھی کہ وہ اس دورے میں اپنے عزیز واقارب سے مل سکیں گے۔

اس وفد میں شامل لوگوں کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے اور ان میں بیشتر وہ کشمیری ہیں جن کے خاندان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بٹے ہوئے ہیں اور ان میںے بعض ایسے بھی ہیں جو پہلے بار بھارت کے زیر انتظام کشمیر جا رہے ہیں۔

ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لوگ جہاں کشمیر کے صوفی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینا چاہتے تھے وہاں ان کی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملاقات کریں گے۔

اطہر مسعود
اطہر مسعود وانی کے بیشتر رشتہ دار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں

اس وفد میں شامل انتالیس سالہ اطہر مسعود وانی کے بیشتر رشتہ دار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں اور وہ زندگی میں پہلی دفعہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جارہے تھے۔جانے سے پہلے وہ اتنے خوش تھے کہ وہ کوشش کے باوجود اپنے خوشی کے آنسوں نہیں روک سکے۔

ملک مختار سن 1958 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے اور ان اراکین میں ایک ہیں جو پہلی مرتبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جارہے ہیں۔

مسڑ ملک کو ایک طویل عرصے سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہنے والے رشتہ داروں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے ۔

معلوم ہوا ہے کہ وفد آج بعد سہہ پہر دہلی پہنچ چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد