BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں نے کشمیر میں کیا دیکھا
News image
پاکستانی صحافی اور روزنامہ دی نیوز کی سفارتی نامہ نگار مریانہ بابر حال ہی میں پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کر کے لوٹی ہیں۔ان کے تاثرات حسب ذیل ہیں:

جیسے ہی ہم جموں پہنچے وہاں مضطرب کیفیت میں انتظار کرنے والے کشمیری اخبار نویسوں نے کہا کہ ’ہم آپ کا دس گھنٹے سے انتظار کر رہے ہیں۔‘

ہم نے جواباً کہا کہ ہم پچاس سال سے زیادہ سے آپ کے منتظر ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات، کشمیر پر تنازعہ کی وجہ سے آج تک کشیدہ ہیں۔

پاکستان اور کشمیر عوام کے درمیان محبتوں اور نفرتوں کے عجیب رشتے کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب کہیں ہمارا استقبال گرم کشمیری چائے اور گیندوں کے پھولوں کے ہاروں سے کیا گیا اور کہیں ہمیں الزامات اور پاکستانی حکومت کے ایجنٹ ہونے کے طعنے سننے پڑے۔

اپنی پوری صحافتی زندگی میں ہم کشمیر کے بارے میں اپنے تجزیے اسلام آباد اور دہلی میں حکومتوں کی طرف سے جاری کیے گئے ’بریفس‘ اور کشمیر سے سنی سنائی معلومات پر کرتے رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں خود اس صورت حال کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔

ہمیں کشمیر میں نئی آوازیں سنائی دیں۔ وہ آوازیں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کی انتہائی مخالف تھیں۔

جموں میں ہمیں سینکڑوں کی تعداد میں ہندو پنڈت ملے جنہیں سری نگر میں علیحدگی پسندوں سے بچنے کے لیے ہجرت کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی حمایت سے ہونے والی دہشت گردی کی وجہ سے گزشتہ پندرہ سالوں سے اپنے گھروں سے بے گھر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واپس جا کر مشرف کو بتائیں کہ ہماری کیا حالت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آج جو حالت ہے وہ پاکستان کے بارود کی وجہ سے ہوئی ہے۔

جو اعداو شمار ہم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور بھارتی غیر سرکاری تنظیموں سے سنتے رہے ہیں اچانک وہ مجسم صورت میں ہمارے سامنے آ گئے۔

ہم ان ماؤں سے ملے جن کی بچے بھارت کی سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں یا جو لاپتہ ہیں یا جو بھارت کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ ان میں سب سے اذیت ناک ان عورتوں کی کہانیاں تھیں جن کی بے حرمتی اور آبروریزی کی گئی۔

علیحدگی پسند تحریک کی خواتین شاخ دختران کشمیر کی سربراہ عائشہ اندرابی نے ہمارے کشیمر پہنچنے سے ایک دن قبل ہمارے خلاف پریس کانفرنس کی۔

انہوں نے اس پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ یہ پاکستانی صحافیوں کا یہ دورہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے اور علیحدگی پسند رہنماؤں کو پاکستانی صحافیوں سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔

ایک اور علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے پاکستانیوں پر کشیمر کا سودا کرنے کا الزام لگایا۔ کئی جگہوں پر ہمیں پاکستانی حکومت کے خلاف تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سری نگر میں ہمیں احساس ہوا کہ متنازعہ علاقہ کیا ہوتا ہے۔ قدم قدم پر سکیورٹی موجود تھی۔ ہماری بس کے اندر جموں اور کشمیر کے مسلح اہلکار موجود تھے اور ہماری بس کی حفاظت میں دو پولیس جیپیں آگے اور دو پیچھے چل رہی تھیں۔

دوران سفر جموں سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر جب ہم ناشتے کے لیے رکے تو ایک صحافی کے حاجت کے لیے جانے سے بھی پولیس والے پریشان ہو گئے اور انہوں نے اسے پاکستانی کی طرف سے فرار ہونے کی کوشش گردانتے ہوئے اس کی تلاش شروع کر دی۔

جموں اور کشمیر کے دورے سے ہمیں پتہ چلا کہ وہ امن چاہتے ہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

تقریباً سب لوگ بھارت اور پاکستان کے پنچوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ یہ دنوں ہی ملک جموں و کشمیر کو ایک جاگیر کے طور پر ’ٹریٹ‘ کرتے ہیں۔

کشمیر یونورسٹی میں ہم نے آزادی کا نعرہ سنا، وہ ریاستی جبر سے آزادی کا نعرہ تھا۔

سوویت یونین کے افغا نستان پر حملے کے بعد افغان مہاجرین نے قالینوں پر میزائیلوں، جنگی جہازوں، اور بموں کے عکس بنانا شروع کر دیے تھے۔ اس طرح سری نگر پر ہم نے ایک لڑکے کو ایک ٹی شرٹ پہنے دیکھا جس پر گولی سے لگنے والے زخم کا نشان بنا ہوا تھا اور اس میں سرخ رنگ سے خون بہتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس نشان کے ساتھ ہی جعلی حروف میں لکھا تھا ’این کاونٹر‘۔ فوج کی طرف سے علیحدگی پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے ان مقابلوں کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔

حریت کانفرنس کے مرکزی رہنماؤں کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنی پڑی ہے۔ کشمریوں کو ان مذاکرات میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے وہ بھارت اور پاکستان دونوں پر تنقید کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی ان مذاکرات میں کون نمائندگی کرتا ہے۔

جنہوں نے سن دوہزار دو کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی یا جنہوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

ایسا لگاتا ہے کہ اس کا کوئی حل نہیں سوائے اس کے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں اور بات کا تعین کیا جائے کہ کشمیروں کا نمائندہ کون ہے۔

اس دوران ہم میں سے کچھ ان قبرستانوں میں جانے میں کامیاب ہو گئے جہاں تحریکِ آزادی کے شہید دفن ہیں۔ اور یہ جدوجہد آزادی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

قبرستان میں موجودگی کے دوران ایک جموں اور کشمیر کے ایک پولیس اہلکار نے کہا آپ لوگ جلدی سے باہر آجائیں۔

اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہاں پاکستانی موجود ہیں تو یہاں ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے اور ہمارے لیے صورت حال سنبھالنی مشکل ہو جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد