’کشمیر کا عبوری حل نکالا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس نے یہ تجویر دی ہے کہ کشمیر کے تنازعے کا عبوری حل نکالا جائے۔ یہ تجویز ایک ایسے مرحلے پر آئی جب ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کرنے کے لئے آمادہ نظر آرہے ہیں ۔ ۔یہ غیر معمولی بات ہے کہ اس طرح کی تجویز پہلی بار حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی طرف سے آئی ہے ۔ مسلم کانفرنس متنازعہ ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان سے چاہتی ہے۔ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے بی بی سی اردو آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی خواہش ہے کہ کشمیر کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہو تاکہ اس خطے کے امن کے لئے کی جانے والی عالمی اور علاقائی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے حتمی فیصلے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کے مستقل حل میں ابھی وقت لگے گا تو پھر کشمیری، ہندوستان اور پاکستان مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے کشمیر کے تنازعے کا عبوری حل نکالیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے تنازعے کا عبوری حل چند صورتوں میں موثر ثابت ہوگا: خطے میں کشیدگی میں بہت حد تک کم کرنے اور ایک سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تنازعے کے تینوں فریقوں یعنی کشمیری ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور ان کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے کشمیر عوام پر، ان کے مطابق، ہونے والے ظلم زیادیتوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کشمیر کے تنازعے کا عبوری حل اس تنازعے کے مستقل حل کے لئے راہ ہموار کرسکتا ہے اور عبوری حل کشمیریوں کو یہ موقع فراہم کرسکتا ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی اور نفرت کی فضا کو بہت حد تک کم کرانے میں میں اپنا کردار ادا کریں۔ سردار عتیق احمد خان نے عبوری حل کا خاکہ ظاہر نہیں کیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس کا خاکہ الگ الگ لوگوں کے ذہنوں میں مختلف ہوسکتا ہے اور اس پر کشمیری ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ممکنہ سہ فریقی بات چیت میں بحث ہوسکتی ہے ۔ عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ پوزیشن سے باہر نکلا جائے اور اس کے لئے لوگوں کو آمادہ ہونا چاہئے۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بارے میں حکومت پاکستان سے ابھی تک کوئی بات نہیں کی ہے البتہ ان کا دعوٰی ہے کہ اس تجویز پر حکومت پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||