BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جموں:سرحدی علاقوں میں سکون

بھارتی فوج فائل فوٹو
لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف بارودی سرنگیں بچھا دی گئیں تھیں
بھارت کے زیر انتظام جموں خطے کے سرحدی علاقوں میں ابھی کچھ عرصے قبل تک خوف کے بادل منڈلاتے تھے۔ لیکن ایک بار پھر وہاں امن و سکون قائم ہے۔ جو کھیت کھلیان کئی برسوں سے ویران پڑے تھے اب وہاں دھان کی فصل ایک بار پھر لہلہانے لگی ہیں۔

دسمبر دو ہزار ایک میں بھارت کی پارلیمنٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھ گئی تھی کہ جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

فوج کی تعداد میں زبردست اضافے کے ساتھ سرحد کے دونوں جانب لاکھوں بارودی سرنگیں بجھا دی گئی تھیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً پچیس ہزار ایکڑ زمین کو بارودی سرنگوں والے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ گولہ باری کے دوران تقریبا پندرہ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا تھا۔

News image
شدت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن میں بھارتی فوج

لیکن حالات میں بہتری آنے کے بعد بھارتی فوج نے اس پورے خطے سے تمام سرنگیں ہٹا لی ہیں۔ اس کام میں تقریبا سات مہینے لگے ہیں۔

جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی لوگ پھر سے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔ اور سرحد ی گاؤں میں زندگی ایک بار پھر واپس لوٹنے لگی ہے۔ کئی برسوں کے بعد وہاں دھان کی فصل کٹنے کے لیے تیار ہے۔

آر ایس پورہ کے ایک سرحدی گاؤں نئی بستی کے ایک سر پنچ ارجن سنگھ کا کہنا تھا’سچ پوچھیں تو ہمیں حالات کو دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ شاید ہم پھرکبھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ پائیں گے۔ہم اپنے گھر سے دور مسافروں کی طرح زندگی گزار رہے تھےاور ایسا لگتا تھا کہ زندگی رک سی گئي ہے۔‘

سچیت گڑھ کے باشندے راج کمار کے دو بیل گولہ باری کی زد میں آکر مارے گئے تھے۔ اور ان کی زمینوں پر بھارتی فوج نے بارودی سرنگیں نصب کردی تھیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے اور میرے خاندان کو فاقوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آج حالات مختلف ہیں۔‘

راج کمار پھر سے اپنے کھیتوں میں کام کررہے ہیں اور گزشتہ برس انہوں نے نئے بیل خریدلیے ہیں۔ ’ہم تو دعا کرتے ہیں کہ حالات پرسکون ہی رہیں اور یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔‘

کشیدگی کے دوران بچوں پر بہت بُرا اثر پڑا تھا۔انکے اسکول بند کر دیے گیے تھے۔ بہت سے بچے جلدی میں اپنی کتابیں بھی گھر چھوڑ آئے تھے۔ لیکن اب بچے کافی خوش ہیں۔

بارہ سالہ اجیت کا کہنا تھا ’میں پھر سے سکول جانے لگا ہوں اور پھر سے ہم لوگ اپنے کھیتوں کھیلتے ہیں۔‘

ہندو پاک بین الاقوامی سرحد کے دونوں طرف کے گاؤں بالکل سرحد کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ لوگ بالکل زیرو لائن کے نزدیک اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔

بدلتے ہوئے حالات نے فوج کے رویے میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے۔ آج کل اگر کوئی غلطی سے سرحد پارکرتا ہے تو اسے دو تین دنوں میں ضروری پوچھ گچھ کے بعد واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد