کشمیری رہنماؤں پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں ایک عسکریت پسند تنظیم جمعیت المجاہدین نے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی طرف پاکستان جانے کی دعوت قبول کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عسکریت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ مذکورہ رہنماؤں کے پاکستان جانے سے علیحدگی پسند تحریک کو نقصان پہنچے گا۔ علیحدگی پسند رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان جانے سے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد ملے گی۔ لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک اور علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ وہ پاکستان جانے والے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایک اور علیحدگی پسند تنظیم کے رہنماء سید علی شاہ گیلانی کو بھی دورے کی دعوت دی گئی ہے لیکن انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ کشمیری رہنماء سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس پر سفر کریں گے۔ بھارت نے ان رہنماؤں کو دورے کی اجازت دے دی ہے لیکن کہا ہے کہ وہ اپنا دورہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک محدود رکھیں۔ کشمیری رہنماؤں نے بھارت کے اس اصرار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے دونوں ممالک کے درمیان طے ہوچکا ہے کہ بس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافر کشمیر سے باہر نہیں جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کو نمائندہ گروپ کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے کچھ رہنماء ذاتی حیثیت میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||