کشمیرمذاکرات پرحریت کا اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علیحدگی پسند کشمیری اتحاد، آل پارٹی حریت کانفرنس، کے اعتدال پسند دھڑے نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پرغور کے لیے بدھ کواپنا ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ اتحاد کے سابق چیئرمین مولوی عباس انصاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گروپ بھارت اور پاکستان دونوں سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے ابھی تک رسمی طور پرانہیں کوئی دعوت نہیں ملی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان نے کشمیری علیحدگی پسندوں کو دوجون کو پاکستان آنے اور مذاکرات کرنے کی دعوت دی ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی پسلی میں چوٹ سے صحتیاب ہونے کے بعد پاکستان کی دعوت پر غور کریں گے۔ آزادی کی حامی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جمعرات کو اپنے ایک اجلاس میں پاکستان کی دعوت پر گفت وشنید کرے گی۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف کشمیری رہنماؤں کومذاکرات کی دعوت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دورہ بھارت کے دوران دی تھی۔ ایک دوسری علیحدگی پسندجماعت’ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی‘ کے صدر شبیر شاہ نے پاکستان کی مذکورہ دعوت پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مذاکرات کرنے سے پہلے بھارت کے زیرانظام کشمیر کے چودہ کے چودہ ضلعوں میں ’معروف شہریوں‘ سے مشورہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||