BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 September, 2004, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف و موہن ملاقات پر ردِعمل

مشر من موہن
صدر مشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات کے لیے بھارتی وزیراعظم نے تاریخی کا لفظ استعمال کیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ہونے والی بات چیت پر ملےجلے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔

بعض سیاسی رہنماوں نے اس کو خوش آئند قرار دیا ہے تو کچھ نے مایوس کن قراردیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں کے درمیان بات چیت اور مشترکہ بیان کو سراھا ہے اور کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کے حق خوداردیت کی بنیاد پر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیے بغیر اس خطے میں سلامتی کو درپیش خطرات حتم نہیں ہوسکتے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بھارت کشمیریوں کے اندر اعتماد بحال کرنے کے لیے کشمیر کے شہروں اور قصبوں سے فوج کو واپس بیرکوں میں بلائے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، جیلوں میں قید کشمیریوں کو رھا کرے، اور ایسے قوانین کو واپس لے جن کے ذریعے فوج کو خوصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔

سردار سکندر حیات نے مزید کہا کہ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب کے کشمیری رہنماؤں کو آپس میں میں ملنے کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے اور یہ کہ کشمیری ہی اس تنازعے کے بنیادی فریق ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل کا آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

کشمیر کی جماعت اسلامی کے سربراہ سردار اعجاز افضل خان نے دونوں ممالک کے مشرکہ بیان کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے صدر جنرل مشرف کو قومی موقف سے ہٹنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے پاکستان کے صدر کو کشمر کے معاملے پر قومی موقف سے پسپائی اختیار کرنے اور مسئلہ کشمیر کو دوطرفہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اعتماد کے قابل نہیں رہے ۔

انھوں نے کہا کہ کشمر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے جسے یہ دونوں مما لک باہم بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔
انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے اور کشمیری ہی اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حق خوداردیت سے کم کوئی اور حل قبول نہیں ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کی کئی خومختار تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی قومی اتحاد نے مشرف من موہن کے درمیان بات چیت اور مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے دونوں مما لک مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں گے۔

اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ مسئلہ کشمیر جنگ اور عسکریت پسندی سے حل نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل پرامن بات چیت اور کشمیری عوام کے حق آزادی کو تسلیم کرنے میں ہی ممکن ہے۔

خودمختار کشمر کی حامی ایک اور تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں کے درمیان بات جیت کو مایوس کن قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

مسڑ خان نے کہا کہ مشترکہ بیان میں نہ تو کشمیریوں کے حق خودارادیت کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو فریق تسلیم کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک بار پھر کشمیریوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر انہیں اور ان کے جذبات کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ بھارت اور پاکستان کے حکمران مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی مسئلے کے بجائے ریاست کی سرزمین کی ملکیت کا مسئلہ تصور کرتے ہیں جو بیان کے مطابق ان کے بدترین نوآبادیاتی طرز فکر کی عکاسی کرتا ہے اور یہ طرز فکر دونوں ملکوں کے علاوہ پورے خطے کے لیے انتہائی خظرناک ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد