’تمام معاملات پر کھل کر بات کی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے صدر پرویز مشرف سے نیویارک میں ملاقات میں ہونے بات چیت کو ’ تاریخی‘ قرار دیا ہے۔ صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے نیویارک میں ایک گھنٹے تک علیحدگی میں جاری رہنے والی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر کھل کر بات چیت کی۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ آج کا تاریخی دن ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ آج کی ملاقات پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ جب وہ بھارت سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا تھا کہ ان کی اس ملاقات سے کیا توقعات ہیں تو اس وقت بھی انہوں نے یہ کہا تھا کہ اس پہلی ملاقات میں ان کی کوشش ہو گی کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملاقات تعمیری اور مثبت انداز میں ہوئی اور اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ جموں و کشمیر کے مسلئے کے حل کی مختلف تجاویز پر غور ہو گا۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ تمام معاملات پر کھل کر بات ہوئی ہے اور پاکستان کے راستے ایران سے بھارت تک گیس پائپ لائن پر بات ہوئی اور دونوں ملک اس منصوبے پر مزید غور کریں گے۔ اس سے پہلے جب بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ روزویلٹ ہوٹل پہنچے تو صدر پرویز مشرف نے ان کوایک فوٹو البم پیش کی میں جس بھارتی وزیر اعظم من موہن کے ضلع چکوال میں آبائی گاؤں ’ گاہ‘ کی تصاویر کے علاوہ ان کی جماعت دوئم کا رزلٹ کارڈ بھی شامل تھا۔ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دونوں رہنماؤں میں کوئی مشترک بات ہے۔ ڈاکٹر سنگھ ایک معروف ماہر اقتصادیات ہیں جنہیں بھارت میں ان کی سیدھی سادی زندگی، ایمانداری اور اعتبار کے لیے جانا جاتا ہے۔ صدر پرویز مشرف ایک پیشہ ور فوجی ہیں جو پانچ برس قبل ایک پرامن بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ لیکن یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ من موہن سنگھ پاکستان میں اور پرویز مشرف انڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||