مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان سے تمام امور کو طے کرنے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان سے ہونے والی اس بات چیت کا بامقصد اور باہمی طور پر قابلِ قبول انجام ہو گا۔ وہ اقوام متحدہ کے انسٹھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہےاور دنیا کے کئی ممالک اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ یوں تو دہشتگردی کے خلاف عالمی اتحاد بھی قائم ہے اور تعاون کی باتیں بھی بہت کی جاتی ہیں لیکن اکثر ممالک دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہچکچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ کہ کچھ ممالک کی پالیسیاں ان کے سیاسی مفادات کے تابع ہیں۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے میں ہمیں من مانی تعبیرات سے گریز کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ میں جنرل مشرف کی تقریر کی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی وزیراعظم کا انداز بھی خاصا بدلا ہوا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اگر روایتی لب و لہجے سے ہٹ کر مثبت اور پرامید مستقبل کی بات کی تھی تو بھارتی وزیراعظم کی تقریر میں بھی دراندازی اور سرحد پار کی دہشت گردی کے روایتی جملے نہیں تھے۔ دونوں رہنماؤں کے تقاریر میں اس تبدیلی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ممالک جمعہ کو ہونے والی ملاقات سے پہلے ماحول کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنانا چاہتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں جمہوریت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اپنے مخصوص مفادات کے تحت بعض ممالک میں غیر جمہوری طرز حکمرانی سے نظریں چراتے ہیں جو نہ تو ان ممالک کے لیے اور نہ ہی خود عالمی برادری کے لیے اچھی بات ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں بھی اصلاحات پر زور دیا اور سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان کی شمولیت کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں بھارت کی رکنیت اقوام متحدہ کو نمائندہ تنظیم بنانے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ انہوں نے دنیا سے غربت و افلاس، بھوک اور طبقاتی ناہمواری کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر ضرور دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||