وزیراعظم کےانٹرویو پر تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنا پہلا انٹرویو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ترجمان اخبار پانچ جنئے کو دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپوزیشن کو اپنے دشمن کی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے رہنماؤں کی موجودگی میں پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف استعمال ہونے والی غیر شائستہ زبان سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتااور وہ مہنگائی اور بدعنوانیوں جیسے اہم مسائل سے نمٹنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ گو وزیر اعظم کی پانچ جنئے کے مدیر ترون وجے کے ساتھ ملاقات صرف دس منٹ کی تھی لیکن اس انٹرویو پر تنازعہ پیدا ہو گیا ۔ خود کانگریس کے اندر کچھ لیڈر ناراض ہیں کہ وزیراعظم نے اپنا پہلا انٹرویو جبکہ کانگریس انتخابات کے دوران اس میں شائع ہونے والے مضامین کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ بدھ کی شام کانگریں کے دفتر میں پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن سے کچھ پریشان کرنے والے سوال پوچھے گئے تو انہوں نے کہا کہ اس کا کچھ زیادہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ جنئے نے انٹرویو کی درخواست دی تھی اور انہیں دس منٹ کا وقت دے دیا گیا۔ نٹراجن نے یہ بھی کہا کہ دوسرے اخبارات کو بھی وزیر اعظم کے ساتھ انٹرویو کا وقت دیا جائے گا۔ اس دوران حزبِ اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے موقع کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیاہے۔ بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ اس اخبار میں صرف بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہی مضامین نہیں شائع ہوتے۔ اس میں دوسرے رہنماؤں کے انٹرویو بھی شائع ہوتے ہیں اب اگر وزیر اعظم نے اس اخبار کو انٹرویو دے دیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آر ایس ایس کے نزدیک آرہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||