من موہن کی بش سےملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے منگل کو نیویارک میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور کے علاوہ عالمی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں جو بھارتی وزیرِ اعظم اور صدر بش کے درمیان پہلی ملاقات ہے، کشمیر کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے موقف کا ذکر کیا۔ دونوں کے درمیان اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا عمل بہتر پیش رفت ہے جسے جاری رہنا چاہیئے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری بھی ملاقات کا ایک موضوع تھا اور توقع ہے کہ اس حوالے سے امریکہ اور بھارت کے درمیان تعاون بڑھے گا۔ اس کے علاوہ آٹی ٹی کی فیلڈ اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ صدر بش اب سے آج اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں اور مبصرین کہتے ہی کہ اس میں وہ عراق کی صورتِ حال، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور بالخصوص کوفی عنان کی اس تنقید کا جواب بھی دیں گے کہ عراق پر عالمی یلغار غیر قانونی تھی۔ صدر بش نے آج کوفی عنان سے ملاقات بھی کی۔ منگل کو افغان صدر حامد کرزئی، پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکی صدر جارج بش کے درمیان بھی ملاقات ہوگی جس میں افغانستان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اہم موضوع ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||