کونسل میں بھارت کی رکنیت ضروری: بلیئر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے بھارت کی کوشش کی حمایت کی ہے۔ ٹونی بلیئر بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے لندن میں ملاقات کے بعد بول رہے تھے۔ منموہن سنگھ امریکہ جانے سے پہلے لندن میں برطانوی رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم بلیئر نے کہا کہ ایک اعشاریہ دو ارب آبادی والے ملک بھارت کو سلامتی کونسل سے الگ رکھنا حالات کا تقاضہ نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق کے معاملے پر سلامتی کونسل میں پیدا ہونے والے حالیہ اختلافات کے بعد کونسل کی مستقل رکنیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دی جارہی ہے۔ ابھی برطانیہ، امریکہ، فرانس، چین اور روس سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے جارہے ہیں جہاں وہ امریکی صدر جارج بش اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کرینگے۔ ہو جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کرینگے۔ منموہن سنگھ نے لندن میں کہا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہرمعاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ’دہشت گردی‘ کا خاتمہ ہوجائے۔ ٹونی بلیئر اور منموہن سنگھ نے مختلف معاملات پر برطانیہ اور بھارت کے درمیان تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹونی بلیئر نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ’دہشت گردی‘ کی کڑے الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مل جل کر کام کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||