BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 September, 2004, 06:51 GMT 11:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف من موہن ملاقات شروع

ڈاکٹر من موہن سنگھ نے مصالحت آمیز موقف اختیار کیا
صدر پرویز مشرف اور وزیر من موہن سنگھ کی پہلی ملاقات آج ہو گی۔
آج جب بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان نیویارک میں ملاقات کا آغاز ہوگیا ہے۔

نیویارک میں ہمارے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ دونوں طرف کے حکومتی اہلکاروں نے ابھی یہی بتایا ہے کہ یہ ملاقات بہت اچھے ماحول میں شروع ہوئی ہے۔

دنوں رہنماؤں کی معاونت کے لیے ان کے وفد میں شامل اہم ارکان بھی ملاقات میں شامل ہیں۔

جنرل مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات دونوں ممالک میںجامع مذاکرات کے عمل کے سِمت اور رفتار کی نوعیت کا تعین کرنے میں اہم ہے۔

اس سے پہلے صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائن پر ملاقات میں کوئی فارمولہ زیر بحث نہیں آئے گا ۔ بلکہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے توقعات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

صدر مشرف نے کہا کہ ان کو اچھے نتائج کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے زخموں پر مرحم پٹی رکھنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ کام جتنا جلدی ہو سکے اتنا ہی اچھا ہے۔

صدر پرویز مشرف کی کوشش ہو گی کہ وہ پاکستان بھارت امن مذاکرات کی رفتار کو بڑھا سکیں کیونکہ پاکستان میں لوگوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کی رفتار بہت کم ہے ۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اس موقع پر انہیں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو جاننے کا موقع ملے گا۔ اس سے پہلے پرویز مشرف نے سن دو ہزار ایک میں آگرہ میں ملاقات کی تھی لیکن اس وقت ان کا تعارف سونیا گاندھی کی حزب اختلاف کے رکن کی حیثیت سے کرایا گیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رہنما ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ معاملہ فہمی اور باہمی اعتماد قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دونوں رہنماؤں میں کوئی مشترک بات ہے۔ ڈاکٹر سنگھ ایک معروف ماہر اقتصادیات ہیں جنہیں بھارت میں ان کی سیدھی سادی زندگی، ایمانداری اور اعتبار کے لئے جانا جاتا ہے۔

صدر پرویز مشرف ایک پیشہ ور فوجی ہیں جو پانچ برس قبل ایک پرامن بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ لیکن یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ من موہن سنگھ پاکستان میں اور پرویز مشرف انڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات اہم تو ہے ہی، ساتھ ہی آج جس فضا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہورہی ہے وہ بھی کم اہم نہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیے اس میں پہلی بار دیکھا گیا کہ انہوں نے روایتی بیان بازی سے گریز کیا۔

جنرل پرویز مشرف نے اس بار ’کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘ یا ’اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت رائے شماری کے لئے کشمیریوں کے جائز جدوجہد‘ کی بات کہہ کر بھارت کو ناخوش کرنے کی کوشش نہیں کی۔

وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی مصالحت آمیز موقف اپناتے ہوئے کشمیر کی بات کی اور اسے ایسا معاملہ قرار دیا جس کا حل دونوں ممالک کے درمیان تلاش کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر سنگھ نے بھی پاکستان پر’دراندازی‘ اور ’سرحد پار سے دہشت گردی‘ کے الزامات لگانے سے گریز کیا۔

فریقین کی بیان بازی سے گریز اور لہجے میں تبدیلی اس مشترکہ کوشش کی نتیجہ ہے جس کے تحت ڈائیلاگ کے لئے سازگار فضا ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستانی کیمپ میں یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ’اگرچہ ہم مذاکرات صرف مذاکرات کے لئے نہیں کرتے رہیں گے، تاہم نصف صدی کی اس خونریز لڑائی کے حل کے لئے ہم کسی جلدبازی میں نہیں ہیں۔‘

جمعرات کو صدر پرویز مشرف نے ایک اخباری کانفرنس سے کہا: ’دوسری جانب سے جو اشارے ہمیں مل رہے ہیں وہ کافی مثبت ہیں۔ میں مطمئن ہوں۔ اب تک تو ٹھیک ہے‘

پراعتمادی اور لہجے میں تبدیلی کے علاوہ پاکستان کے موقف میں ٹھوس تبدیلی کے اشارے ہیں۔ دوطرفہ معاملات کی پہچان اس وقت سب سے اہم ہے۔ کئی لوگ سوچ رہے ہیں: تنازعۂ کشمیر کے حل کے لئے دونوں ممالک کن طریقوں پر غور کررہے ہیں؟

نیویارک میں صدر پرویز مشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے دوران تنازعۂ کشمیر کے حل کیلئے وہ کسی ’بدل‘ پر بات نہیں کریں گے۔ ’وہ بھی موقع آئے گا، لیکن بعد میں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد