من موہن سنگھ کے ’گرائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے تیرہویں وزیراعظم کے طور پر جب من موہن سنگھ دہلی میں حلف اٹھا رہے تھے اس وقت میں ضلع چکوال کے گاؤں گاہ میں ان کے ’گرائیوں‘ کے ساتھ مل کر آدھی صدی پہلے یہاں بیتے ہوئے ان کے ماہ و سال کا کھوج لگا رہا تھا۔ اب تو اسلام آباد سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاؤں کی شکل ہی تبدیل ہو چکی ہے اور ایک آدھا ثبوت ایسا بچا ہے جس کی بنا پر کہا جا سکتا کہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان سے قبل یہ سکھوں کی اکثریتی آبادی والا گاؤں تھا ۔ بھارت کے نئے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب کے گاؤں ’گاہ‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ گاؤں کے پرائمری سکول کا رجسٹر اور بعض بزرگوں کے دعوؤں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ ہی گاؤں ہے جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔ پرائمری سکول کے انچارج ہیڈ ماسٹر محمد اقبال کے مطابق ان کے پاس آج بھی وہ رجسٹر موجود ہے جس میں من موہن سنگھ کا اندراج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رجسٹر کے ’ سلسہ (سیریل) نمبر ایک سو ستاسی پر من موہن سنگھ ولدیت گرمکھ سنگھ تاریخ پیدائش چار فروری سن انیس سو بتیس درج ہے۔ رجسٹر کے مطابق من موہن سنگھ نے پہلی جماعت میں سن انیس سو سینتیس میں داخلہ لیا اور سن انیس سو اکتالیس میں انہوں نے چوتھی جماعت پاس کر لی۔ محمد اشرف، بخت بانو، جگندر سنگھ اور احمد خان کے نام بھی من موہن سنگھ کے نام کے آگے پیچھے درج ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ ان کے ہم جماعت تھے۔
محمد اشرف آج کل گاہ سے تھوڑے فاصلے پر رہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ’موہنہ ان کا ہم جماعت تھا‘ اور بچپن میں وہ ان کے ساتھ بنٹے یا گولیاں اور کبڈی کھیلتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواحی گاؤں کے رہائشی ماسٹر دولت رام اور فضل کریم جہلم والے انہیں پڑھایا کرتے تھے لیکن دولت رام بہت مار پیٹ کرنے والے استاد تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چوتھی جماعت کے امتحان میں ناکام ہوئے اور تعلیم چھوڑ دی لیکن من موہن سنگھ چار جماعت پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے گاؤں سے چلے گئے اور اس کے بعد سے وہ انہیں نہیں ملے۔ محمد اشرف نے من موہن سنگھ کے ’گاہ‘ آنے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ اگر ان کا ’سنگی‘ یا دوست من موہن سنگھ آجائیں تو وہ دیگیں پکائیں گے۔ گاہ کے بزرگ ترین نوے سالہ شخص گل حسین بتا رہے تھے کہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان سے قبل اس گاؤں میں مسلمانوں سے زیادہ سکھ رہتے تھے ۔ ان میں سے بیشتر کاروبار اور زمیندارا کرتے تھے اور ان کے مطابق وہ سکھوں کے مزارع تھے۔ اس گاؤں کے ایک شخص نادر خان نے جو اپنی عمر ستر برس بتاتے ہیں کہا کہ جب انہوں نے من موہن سنگھ کے ساتھ داخلہ لیا تو ماسٹر دولت رام نے داخلے کے چوتھے روز ان کے سر پر ڈنڈا مارا اور اس دن کے بعد وہ سکول نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ من موہن سنگھ ان کے دوست تھے اور وہ دونوں اکٹھے والی بال کھیلتے تھے۔
گاؤں گاہ کو موجودہ حالت میں تو شاید اب من موہن سنگھ بھی پہچان نہ پائیں کیونکہ اب ان کے سکول سمیت تمام عمارات نئے سرے سے تعمیر ہوئی ہیں۔ گاؤں کی بڑی گلیاں بھی اتنی تنگ ہیں کہ گاڑی بڑے احتیاط سے گزارنی پڑتی ہے۔ تاہم تمام گلیوں میں اینٹوں سے پختہ راہیں اور نکاسی آب کی پکی نالیاں بنی ہوئی ہیں۔ اب گاہ میں ایسی علامت کہیں کہیں ہی ملتی ہے کہ وہاں کبھی سکھ رہتے تھے۔ اس کے علاوہ بھائی خان کا تالاب یا پھر بدھو والا تالاب ایسے ہیں جو سکھوں کے دور کی علامات ہیں۔ گاؤں کے بزرگوں کے بقول ان تالابوں میں برسات کا پانی جمع ہوتا ہے۔ پہلے زمانے میں تو پینے کا پانی بھی یہاں سے ہی حاصل ہوتا تھا لیکن اب جانور یہاں پانی پیتے ہیں۔
مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کے مطابق قیام پاکستان کے وقت راولپنڈی ضلع ہوتا تھا جس کے بعد پہلے جہلم اور پھر سن انیس سو پچاسی چکوال ضلع بنا۔ گاہ نامی گاؤں بھی پہلے راولپنڈی، بعد میں جہلم اور اب ضلع چکوال کے حدود میں آگیا ہے۔ سرخ اینٹوں اور نیلے صدر دروازے والے اس سکول اور یہاں کے اس گاؤں کے لوگوں کے لئے وہ لمحہ حیرت اور خوشی سے کم نہیں تھا جب انہیں پتہ چلا کہ بھارت کے نئے وزیراعظم من موہن سنگھ ان کے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ گاؤں والے بھارتی وزیراعظم کے استقبال کے منتظر ہیں لیکن یہ فیصلہ تو موہن سنگھ ہی کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||