BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 May, 2004, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن، پہلے سِکھ وزیر اعظم
منموہن سنگھ
منموہن سنگھ اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کے بانی سمجھے جاتے ہیں
بھارتی صدر عبد الکلام نے منموہن سنگھ کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا ہے۔ اس سے قبل سونیا گاندھی نے پارٹی اراکین کے سخت اصرار کے با وجود وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے انکار کیا تھا۔

منموہن سِنگھ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم ہونگے۔ انہیں ملک میں اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

بہتر سالہ منموہن سنگھ ماہر تعلیم سے سول سرونٹ بنے۔ انہوں نے برطانیہ کی اوکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی اور 1992 میں وہ بھارت کے وزیر خزانہ بنے۔

اپنی پہلی تقریر میں ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا ’ایسے خیال کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی جسے لاگو کرنے کا وقت آگیا ہو‘۔

ان کے شروع کیے گئے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کو اس وقت کی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی حمایت حاصل تھی جن کا تعلق بھی کانگریس ہی سے تھا۔

بطور وزیر خزانہ انہوں نے ملک کے ٹیکس سسٹم کو آسان بنایا اور کاروبار کے لیے فضا کو ساز گار بنانے کے اقدامات کیے۔ ان کے دور میں ملک کی معیشت بحال ہوئی، صنعت میں بہتری آئی اور افراط زر پر قابو پایا گیا۔

حالیہ کچھ عرصے میں وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بی جے پی کے دور میں ملکی معیشت کی پیداوار وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔

منموہن سنگھ نے بھارت اور بیرون ملک کی یونیورسٹیوں میں اقتصادیات پڑھائی ہے۔ ملک کے معاشی نظام کے لیے وہ سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے نافذ کردہ نظام سے متاثر ہیں۔

تاہم سیاست میں ان کا انفرادی کردار زیادہ متاثر کن نہیں رہا ہے۔ وہ 1991 سے 1996 تک ملک کے وزیر خزانہ رہے۔

سنگھ سونیا گاندھی کے ایک قریبی ساتھی ہیں۔

انہوں نے ایک انٹر ویو کے دوران کہا تھا کہ جب انہیں وزیر خزانہ کا عہدہ دیا گیا تھا تو وہ بہت حیران ہوئے تھے۔

’میرے دوستوں نے کہا تھا کہ تمہیں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ تم ناکام ہوگے اور پھر تمھیں چھ ماہ ہی میں نکال دیا جائے گا‘۔

’مگر میں نے کہا تھا کہ یہ میرے لیے سیاسی کردار کرنے کا ایک موقع ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں‘۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا منموہن سنگھ ارادے سے بھارت کے وزیر اعظم بنتے ہیں یا پھر موقع کے لحاظ سے۔

اگر یہ ہوگیا تو بھارتی معیشت کے لیے یقیناً ایک اچھی خبر ہوگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد