BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 May, 2004, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چکوال من موہن سنگھ کا منتظر
ڈاکٹر من موہن سنگھ
ڈاکٹر من موہن سنگھ اپنے بچپن میں ’موہنہ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے
ضلح چکوال میں واقع گاؤں گاہ کے لوگوں کو انتظار ہے کہ ان کے گاؤں میں پیدا ہونے والا ’موہنہ‘ (بھارت کے نامزد وزیر اعظم من موہن سنگھ) اپنے آبائی گاؤں میں آئیں گےاور پاکستان کے ساتھ امن کے لیے کوشش کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے نامہ نگار نے جمعہ کے روز ضلع چکوال کے شما ل مغرب میں واقع گاؤں کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گاہ کے لوگوں کو فخر ہے کہ ان کا گاؤں میں پیدا ہونےوالا ایک بچہ آج بھارت کا وزیر اعظم بن گیا ہے۔

یہ دوسری بار ہے کہ پاکستان کے اسی علاقے سے ہجرت کر کے جانے والا شخص بھارت کا وزیر اعظم بنا ہے۔ آئی کے گجرال جن کا تعلق ضلع جہلم کے ایک گاؤں سے ہے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ چکوال انیس سو پچاسی تک جہلم کی ایک تحصیل تھی۔

گاہ کے کاشتکار راجہ گُل شیر نے کہا کہ ان کو بڑی خوشی ہے کہ ان کا ایک ’گرائیں‘ ( اسی گاؤں کا رہنے والا ) آج بھارت کا وزیر اعظم بن گیا ہے۔

سابق فوجی راجہ گُل شیر جس نے 1965 کی جنگ میں حصہ لیا ہے کہا کہ اگر یہاں کی ہوا اور پانی کا کوئی اثر من موہن پر رہ گیاہے تو وہ پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کرئے گا۔

سرجیت سنگھ کا خاندان
ڈاکٹر من موہن کا خاندان چکوال سےامرتسر چلا گیا جہاں ان کے بھائیوں کے خاندان اب بھی مقیم ہیں
گل شیر کو پتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے من موہن کو بہت کوشش کرنا پڑے گی اور اس کے راستے میں بہت سی مشکلات آئیں گی۔

گل شیر کہتے ہیں کہ اگر من موہن کبھی اپنے گاؤں واپس آیا تو وہ سب سے پہلے اس کا استقبال کر ے گا۔

یہ اتفاق ہے پاکستان اور بھارت کے سربراہان نے والدین کے ساتھ 1947 میں نئے ملکوں میں ہجرت کی۔ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کا خاندان دلی سے ہجرت کے پاکستان آیا جبکہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بڑے چکوال سے ہجرت کر کے مشرقی پنجاب چلے گئے۔

گاہ کے لوگ کو جو آج بھی موجودہ زمانے کی ترقی سے محروم ہیں امید ہے کہ ان کے گاؤں کی قسمت ایسے ہی بدلے گی جس طرح دہلی میں نہر والی حویلی کی بدلی جب وہاں پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے دورہ کیا تھا۔ جنرل مشرف کی پیدائش دہلی کی اسی حویلی میں ہوئی تھی۔

گاہ کے قریب سے ایک ارب ڈالر سے بننے والی موٹر وے تو گزرتی ہے لیکن گاہ کے لوگ آج بھی اچھی سڑک کی سہولت سے محروم ہیں اور عورتوں کو پانی لانے کے گاؤ ں کے کنوئیں پر جانا پڑتا ہے جہاں سے 1947 سے پہلے ہندو، سکھ اور مسلمان اپنی اپنی مخصوص کھولی سے پانی بھرتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد جو گاہ میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ یہاں کے تمام مکین مسلمان ہیں۔

گاہ کا پرائمری سکول جہاں من موہن سنگھ نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی وہاں پاکستان بنے سے پہلے ہندو، سکھ اور مسلمان ایک ہی جگہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

گاہ کے محمد خان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں ہندو اور سکھوں کی آبادی مسلمانوں کے برابر تھی لیکن لوگ امن کے ساتھ رہتے تھے ۔

پاکستان کے بننے کے وقت جو حالات خطے میں پیدا ہوئے اسی طرح کے حالات گاہ میں بھی پیدا ہو گئے۔

باز خان جو 1947 میں بارہ سال کے تھے بتایا کہ وہ کھیتوں میں بھیڑیں چرا رہا تھا جب اسے پتا چلا کہ گاؤں پر حملہ ہو گیاہے اور گاؤں سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں اور دھواں نکلتا ہوا نظر آیا۔

دوسرے گاؤں کے مسلمانوں نے گاہ پر حملہ کر دیا تھا۔ لیکن گاہ کے مسلمانوں نے ہندو اور سکھوں کو پناہ دی تھی۔ اور ان کو ہجرت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا۔

من موہن کے والد نے جو خشک میووں کا کاروبار کرتے تھے، 1947 سے پہلے ہی اپنے خاندان کو گاہ سے نکال کر شہر لے گئے تھے اور 1947 میں اپنے خاندان کو وہاں سے نکال کر امرتسر لے گئے۔

احمد خان کو یاد نہیں ہے کہ من موہن اس کے کلاس فیلو تھے حالانکہ سکول کے رجسٹر سے یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ ایک ہی کلاس میں تھے لیکن اس کے باوجود اس بات پر فخر ہے کہ ان کے گاؤں میں پیدا ہونے والا ایک شخص آج انڈیا کا وزیر اعظم بن گیا ہے۔

محمد اشرف کو بھی من موہن کے بارے کچھ یاد نہیں ہے لیکن جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گرمکھ سنگھ کوھلی کے بیٹے کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو ان کو یاد آیا ’اوہ چھوٹا موہنا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد