’موہن گیس مہنگی نہیں کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے نامزد وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے بارے میں یہ تو سب کو معلوم ہے کہ انہوں نے ملک میں معاشی اصلاحات متعارف کروائیں لیکن یہ کم لوگوں کو پتہ ہے کہ تین بھائیوں اور چھ بہنوں کا یہ بھائی راتوں کو گلیوں میں لگی لائٹ کی روشنی میں پڑھا کرتا تھا۔ من موہن کے ایک بھائی سرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی (من موہن سنگھ) بڑے سادہ کپڑے پہنتے ہیں اور کھانے میں سبزی پسند کرتے ہیں۔ انہیں مصالحے دار کھانے بالکل پسند نہیں۔ من موہن سنگھ کے والد گرمکھ سنگھ کولہی تاجر تھے جو پاکستان سے بھارت گئے تھے۔ من موہن سنگھ کی والدہ کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ آج امرتسر کی وہ حویلی جہاں من موہن سنگھ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن وہاں کے لوگ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ ان کے علاقے کا ایک رہنے والا وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے ایک رشتہ دار کا کہنا ہے کہ من موہن سنگھ کم گو ہیں اور کچھ کچھ شرمیلے بھی۔ من موہن سنگھ کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ان کے شوہر بھارت کو درپیش مسائل کو اچھی طرح حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہلی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران انہیں نے کہ ’مجھے امید ہے کہ کم از کم گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔‘ بھارت کے نامزد وزیرِ اعظم کو لباس میں سفید رنگ اور نیلی پگڑی بہت پسند ہے۔ من موہن سنگھ کی چھوٹی بہن کے مطابق آج سے چالیس سال قبل کسی نجومی نے یہ بات کہی تھی کہ من موہن سنگھ بھارت میں ایک بہت ہی بڑے عہدے پر فائز ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||