حریت پاکستان جانے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس کا وفد اگلے ہفتے پاکستان جا ئے گا۔ اس بات کا اعلان حریت کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے بدھ کے روز جماعت کی مجلس عاملہ کے تین گھنٹے چلنے والی ملاقات کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ’ہم نے دو جون کو پاکستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔‘ وفد کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا جس کے بعد سفر کے لیے متعلقہ دستاویزات کے لیے درخواستیں دے دی جائیں گی۔ میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ وہ پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کے رہنماؤں کے علاوہ کشمیری عسکریت پسند گروہوں کے کمانڈروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ملاقاتوں کے بعد حریت کا وفد بھارت واپس آکر حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا اور سہ فریقی مذاکرات کےعمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم کُل جماعتی حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان کی اس دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اور علیحدگی پسند جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بھی اپنے فیصلے کا اعلان جمعرات کو کرے گی۔ حریت کے رہنماؤں کا وفد بس کے ذریعے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد جائے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کو وفد کی شکل میں پاکستان جانے کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی رہنما پاکستان جا چکے ہیں لیکن نجی حیثیت میں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیری رہنماؤں کے دورے پر بات کرتے ہوئے روزنامہ ’ڈیلی ٹائمز‘ سے کہا کہ ’وزیر اعظم من موہن سنگھ کا ان کو آنے کی اجازت دینا ایک اہم پیش رفت ہے۔ سہ فریقی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اگر ہم امن کے لیے خلوص سے کام کریں گے تو یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||