BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن کی راہ سے واپسی ناممکن ہے‘

پرویز مشرف اور منموہن سنگھ
’اب مسائل کے حل کا وقت ہے اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے ان کی بات چیت امید سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر پرویز مشرف نے یہ بات دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد کہی۔

بات چیت کے اختتام پر 17 نکات پر مشتمل ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گيا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے اب امن کی راہ سے واپسی ناممکن ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس اعلامیہ میں مسئلۂ کشمیر کے حل کے لیے جاری کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان سڑک اور ریل کے راستے آمدورفت بڑھانے اور تجارت کو فروغ دینے کا عزم کیا ہے۔

اس مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک جن نکات پر متفق ہوئے ہیں ان میں باہمی تجارت کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ تجارتی کمیٹی کا قیام، جنوری 2006 تک بھارتی ریاست راجستھان اور پاکستانی صوبہ سندھ کے درمیان ریل رابطہ، کشمیر بس سروس میں شامل بسوں میں اضافہ، اس برس کے اواخر تک ممبئی اور کراچی میں قونصل خانوں کی بحالی اور امرتسر اور لاہور کے بیچ ایک نئی بس سروس کا آغاز شامل ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ امن کے اس عمل کو شدت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بننے دیں گے۔

مشرف منموہن مذاکرات کو انتہائی مثبت مستقبل کی طرف لے جانے والا قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل صدر مشرف نے ہندوستان کے سرکردہ مدیروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بہت کارآمد بات چیت ہوئی ہے۔

منموہن سنگھ کے اس بیان کے جواب میں کہ سرحدوں میں اب کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی صدر مشرف نے کہا کہ کنٹرول لائن بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ آپ اس میں سافٹ بارڈر بھی جوڑ لیں اور اسی طرح مسئلہ کا حل نکلتا ہے‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملے کے بعد دنیا کے حالات بدل چکے ہیں اور دہشت گردی دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اب مسائل کے حل کا وقت ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ وہ انہيں’ دہشت گرد‘ سمجھتے ہیں جنہوں نے کشمیر کے سیاحتی مرکز پر حملہ کیا اور جنہوں نے سرینگر مظفرآباد بس پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

جنرل مشرف نے بتایا کہ ان کی ہندوستانی قیادت سے ہر معاملے پر مفصل بات چیت ہوئی ہے اور یہ بات چیت بہت مثبت انداز میں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’ آگرہ کے مقابلے میں اس بار فضا بالکل بدلی ہوئی تھیں اور ایسا ساز گار ماحول پہلے کہیں نہیں تھا‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں اقتصادی تعلقات اور تعاون سب سے اہم پہلو بن چکے ہیں اور اب انہیں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفر اور اقتصادی تعلقات کے ضمن میں کافی نرمی آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا ہے اور اس سے پاکستان کے عوام کو بھی ہندوستان کے بارے میں اعتماد اور بھروسہ پیدا ہوگا۔

بھارت کے دورے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف فلپائن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ دارالحکومت منیلا میں فلپائن کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں ۔ منگل کی صبح صدر مشرف کی فلپائن کی صدر گلوریا آرویو سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد فلپائن کی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے انٹیلیجنس ادروں کے درمیان تعاون پر ایک یاد داشت پر دستخط ہوئے ہیں۔

جنرل مشرف فلپائن کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی صدر ہیں اور دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں امریکہ کے اہم اتحادی ہیں۔

جنرل مشرف بدھ کے روز فلپائن سے انڈونیشیا کے تین روزہ دورے پر روانہ ہونگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد