مشرف، منموہن تجارتی کمیٹی پر متفق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے درمیان نئی دہلی میں دو گھنٹے سے زیادہ طویل ملاقات میں ایک مشترکہ تجارتی کمیٹی کے تشکیل پر اتفاق ہو گیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ ملاقات مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دنوں رہنماؤں کی ملاقات میں اس برس کے آخر تک پاکستان اور بھارت کے درمیان نئے ریل رابطے اور بس سروس میں اضافہ پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر کوئی پیش رفت ہو سکی ہے یا نہیں۔ دونوں رہنماؤں نے معاونین کے ہمراہ بات چیت کے بعد کچھ دیر کے لیے اکیلے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنما بھارتی صدر اے پی جے عبدالکلام کے دعوت پر صدارتی محل میں ظہرانے کے لیے چلے گئے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ آج کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی بھی صدر مشرف سے اس ہوٹل میں ملاقات کریں گی جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پاکستانی صدر پرویز مشرف اور وزیرِاعظم منموہن سنگھ کی ملاقات دلی کے حیدرآباد ہاؤس ہوئی۔ بات چیت سے قبل صدر پرویز مشرف نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ان کے اس دورے سے ملنے والے نادر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی عشروں پرانے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ اس بات چیت میں دونوں ملکوں کے وفود نے حصہ لیا۔ ہندوستان کی طرف سے وزیرخارجہ نٹور سنگھ ، وزیردفاع پرنب مکھرجی، کمل ناتھ مرارکا اور قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن جبکہ پاکستان کی جانب سے وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری، وزیرِ اطلاعات شیخ رشید بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ نئی دہلی میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگرچہ اتوار کو ہونے والے مذاکرات میں کسی بڑے اعلان کا امکان نہیں ہے تاہم ان مذاکرات کے دوران سمجھوتے کی جو فضا دیکھنے میں آ رہی ہے وہ گزشتہ پچاس برس کے دوران کبھی بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ بات چیت سے قبل صدر مشرف اور بھارتی وزیرِاعظم جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ دیکھنے کے لیے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم پہنچے تو سٹیڈیم میں موجود عوام نے ان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔دونوں رہنما دو گھنٹے سے زیادہ میدان میں موجود رہے اور میچ سے لطف اندوز ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||