BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 April, 2005, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت ہر مسئلے پر بات کے لیے تیار

نٹور سنگھ
پاکستان کا بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ماضی کے مقابلے میں اب حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔

انہوں نے سری نگر اور مظفرآباد بس سروس کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا اور کہا کہ ’دنیا کا کوئی بھی فلسفہ یا مذہب بس پر حملے کو درست قرار نہیں دے سکتا۔‘

قصوری نے یہ بیان دلی میں اپنے ہندوستانی ہم منصب نٹور سنگھ کی صدر مشرف سے ملاقات کے بعد دیا ہے۔ نٹور سنگھ نے بھی بات چیت کے بعد کہا کہ صدر مشرف بہت کھلے ذہن کے ساتھ ہندوستان آئے ہیں۔

اس سے قبل ہندوستان نے کہا کہ پاکستانی صدر پرویزمشرف کو جن امور پر بھی دلچسپی ہو ہندوستان اس پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ اعتماد کی بحالی کے حوالے سے وہ کشمیر کے مسئلے کا مستقل حل چاہتا ہے اور اسے امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بامعنی رہیں گے۔

پاکستانی صدر کے ہندوستان پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی وزارت خارجہ کے سیکرٹری شیام سرن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کے اس دورے سے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے رشتے مضبوط ہونگے وہیں دونوں ممالک کے رہنما کچھ اہم امور پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب دونوں رہنما ملاقات کے دوران جس موضوع پر بھی بات کرنا چاہیں کر سکتے ہیں اور ہمیں ایسی کسی بھی بات چیت سے پرہیز نہیں ہے جس میں پاکستانی صدر پرویز مشرف کو دلچسپی ہو۔‘

سرن نے کہا کہ صدر مشرف کے دورے سے قبل پاکستان کی جانب سے کچھ مثبت بیانات آئے ہیں اور وزیراعظم من موہن سنگھ نے تو کھلے عام کہا ہے کہ وہ ایسے ماحول کے حق میں ہیں جہاں سرحدوں کی اہمیت کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے تو کہا ہے کہ ہم ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جس میں سرحد یا لائن کی اہمیت ذرا کم ہو۔ اس مقصد کے لیے اعتماد کی بحالی کی کئی نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور مزید کی جائیں گی تاکہ ماحول میں بہتری آئے۔‘

وزارت خارجہ کے سیکرٹری سے جب یہ پوچھا گیا کہ صدر مشرف نے نرم سرحد کی بات کی ہے تو اسکا کیا مطلب ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ’بہت خوشی کی بات ہے کہ خود صدر مشرف نے نرم سرحد کو تسلیم کیا ہے۔ آخر نرم سرحد ہے کیا؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ سرحد کے آر پار آزادانہ ٹریفک ہو ، عام آدمی آسانی سے آ جا سکے ، دونوں جانب کے تجارتی رشتوں میں آسانیاں ہوں، ٹرانسپورٹ رابطے بحال ہوں اور دونوں جانب کی عوام کی جو شکایات ہوں انکا اذالہ ہوسکے ۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد