پاک امریکہ تعلقات مضبوط ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ وہ ستمبر گیارہ کمشن کی سفارشات سے بہت متاثر ہوئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے نوئے کی دہائی میں پاکستان کا ساتھ چھوڑ کر اچھا اقدام نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو طالبان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ گیارہ ستمبر کمیشن کی اس سفارش نے ان کو خاص طور پر متاثر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر توجہ دینی چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اب ایک ایسی سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں سے وہ کئی سال پہلے ہٹ چکا تھا۔ پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ترجمان نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے بچنے کے ا مریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ طیاروں کی فروخت سے خطے میں سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو جدید اسلحہ کی فراہمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہ ایک ہی وقت میں پاکستان اور بھارت کے اچھے تعلقات کا خیال بہت سارے لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ملک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا مطلب دوسرے کے ساتھ بگاڑ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||