BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 March, 2005, 23:16 GMT 04:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
F16 کا طویل سفر

ایف سولہ
1989 میں ساٹھ طیاروں کے لئے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر میں طے پایا تھا۔
پاکستان کو چالیس ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے بارے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دسمبر 1981 میں سودا طے پایا تھا۔

اس سودے کے تحت پاکستان کو دو قسطوں میں یہ طیارے ملنے تھے۔ پہلی قسط میں چھ طیارے اور دوسری قسط میں 34 طیارے۔ اس وقت پاکستان اسرائیل کے بعد دوسرا ملک تھا جسے یہ طیارے فروخت کئے گئے۔

پاکستان نے پہلا ایف سولہ طیارہ اکتوبر 1982 میں فورٹ ورتھ میں وصول کیا اور سکواڈرن لیڈر شاہد جاوید یہ طیارہ لے کر 15 جنوری 1983 میں سرگودھا کے فضائیہ کے اڈے پر اترے۔

اس کے بعد 1983 سے 1987 تک اس سودے کے مطابق تمام چالیس طیارے پاکستان کے حوالے کر دئیے گئے جن میں سے بتایا جاتا ہے کہ 36 طیارے اب بھی فضائیہ میں شامل ہیں۔

اس کے بعد 1988 میں 11 مزید طیاروں کا سودا ہوا اور ان کی قیمت بھی پاکستان نے ادا کردی۔ لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف پابندیوں کی وجہ سے یہ طیارے ایریزونا کے صحرا میں ہی کھڑے رہ گئے اور پاکستان کے حوالے نہیں کئے گئے۔

پھر 1989 میں پاکستان نے مزید ساٹھ ایف سولہ طیارے خریدنے کے لئے امریکہ کے ساتھ ایک ارب چالیس کروڑ کا سودا طے کیا۔لیکن یہ سودا بھی براؤن ترمیم کے تحت عملی جامہ نہیں پہن سکا۔

صدر کلنٹن کے دور میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ طیارے پاکستان کو نہیں ملیں گے البتہ ان کی رقم، یہ طیارے دوسرے ملکوں کو فروخت کر کے پاکستان کو واپس کی جاسکتی ہے۔ لیکن کسی تیسرے ملک کو یہ طیارے فروخت کرنے کا معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

1998 میں صدر کلنٹن اور نواز شریف کی حکومت کے درمیان یہ طے پایا کہ امریکہ ، پاکستان کو تین سو چھبیس ملین ڈالر کی نقد رقم ادا کرے گا اور ایک سو چالیس ملین ڈالر تلافی کی رقم کے طور پر ، جس میں سے ساٹھ ملین ڈالر کی مالیت کی امریکی گندم پاکستان کو دی جائے گی۔

جون 2003 میں جب صدر جنرل پرویز مشرف نے کیمپ ڈیوڈ میں صدر بش سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے ایف سولہ کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس ملاقات میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا البتہ صدر بش نے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اب خیال یہ ہے کہ امریکہ کی اس امداد میں سے پاکستان نئے ایف سولہ کی قیمت ادا کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد