بھارت کے رد عمل پر حیران ہیں: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کی پیش کش پر بھارتی رد عمل سے حیرانی ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان جتنی تعداد میں چاہے ایف سولہ طیارے خرید سکتا ہے اور خاص تعداد کے بارے میں چھپنے والی خبریں غلط ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ جب صدر پرویز مشرف کرکٹ میچ دیکھنے بھارت جائیں گے تو صرف کرکٹ پر ہی بات نہیں ہوگی کہ صدر کا وقت قیمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف بھارت میں اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیر خارجہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں روایتی اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کا توازن برقرار رکھنا خطہ کے عوام کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ایف سولہ طیارے ملنے سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ تو ہوگا لیکن اس سے طاقت کا توازن مجموعی طور پر تبدیل نہیں ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایف سولہ طیارے ملنا پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بہتری کے لیے ہرگز ناموافق نہیں ہوگا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف سولہ کے معاملہ کو بھارت اور پاکستان کے درمیان روایتی ہتھیاروں کے عدم توازن کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روایتی ہتھیاروں میں بھارت سے توازن میں آنے کے لیے ایک زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اسرائیل سے فالکن اواکس نظام حاصل کررہا ہے اور اس کی ائیر فورس دفاعی اخراجات کے مقابلہ میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ کہ بھارت کا یہ کہنا غلط ہے کہ ایف سولہ طیارے ملنے سے پاکستان کا ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائل پہلے سے موجود ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ایف سولہ طیارے خریدنے کے ارادے کو بھارت کے حالیہ برسوں میں دفاعی بجٹ میں زبردست اضافہ کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں پر نطر رکھنے والے عالمی ادارے سپری کے مطابق بھارت سنہ دو ہزار دو میں قوت خرید کی برابری کے پیمانے پر دنیا کا تیسرا بڑا ملک تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد بھارت سے ہتھیاروں میں سبقت لے جانا نہیں بلکہ کم سے کم قابل اعتماد دفاعی صلاحیت ہمارا ہدف ہے تاکہ کوئی ملک پاکستان پر حملہ نہ کرسکے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہاکہ امریکہ کے ایف سولہ طیارے دینے کی پیش کش کا ایران کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملہ میں پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ہم ایران کے مسئلہ کا پُرامن حل چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے علاقہ میں پہلے ہی ایک ہیجانی کیفیت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان نے ویانا میں کچھ ایٹمی پرزے بھیجنے کا کہا ہے تاکہ عالمی ایٹمی ایجنسی دیکھ لے کہ ایران کو ملنے والے سینٹریفوجز ڈاکٹر خان نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے گئے تھے یا کسی اور ملک سے ، یا ایران نے خود بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جارہا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایٹمی پرزے ایران کو بھیجنے کے پاکستان کے لیے کوئی مضمرات نہیں ہیں اور صرف یہ ہوگا کہ پتہ چل جائے گا کہ ایران سچ بول رہا ہے اور پاکستان بھی پہلے کہہ چکا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کے ذریعے ہمارے ہاں سے یہ پرزے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||