’سینٹریفیوجز سے تعلق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے پاکستان کو ایف سولہ فراہم کرنے کے امریکی انتظامیہ کےفیصلے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس تاثر کو پر زور طریقے سے رد کیا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کو سینٹریفیوجز حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد کیا ہے۔ شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے امریکی فیصلے کے بارے میں بہت دن سے پتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ یہ فیصلہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صدر جنرل مشرف کے امریکہ کے دورے کے دوران ہوا تھا۔ شیخ رشید احمد نے ان سوالات کے جواب میں لا عملی کا اظہار کیا کہ کتنے ایف سولہ طیارے پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے اور یہ کب تک پاکستانی فضائیہ کے حوالے کر دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس کی ضرورت کے مطابق ایف سولہ مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا یہ تو وہ کسی متعلقہ شخص سے ہی پوچھ کر بتا سکتے ہیں کہ کتنے ایف سولہ طیارے پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نےان طیاروں کی قیمت کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کے صدر جنرل مشرف کا ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو سینٹریفیوجز حوالے کرنے کا بیان اور پاکستان کو ایف سولہ طیارے فراہم کرنے کی خبر ایک ہی دن آئی ہے تو کیا اس میں کوئی تعلق ہے شیخ رشید نے بڑی سختی سے کہا کہ ’کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا سینٹریفیوجز فراہم کرنے سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ انہوں نے کہا کہ بلیک مارکیٹ سے اگر کوئی مال گیا ہو تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس میں ملوث نہیں تھی نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دنیا سے کوئی بات نہیں چھپائی۔۔ آئی اے ای اے سے نہیں چھپائی۔ ہماری نیت صاف ہے۔‘ صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان اپنے سینٹریفیوجز کو معائنے کے لیے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کو بھجوانے پر غور کر رہا ہے تاکہ وہ دنیا کے اس بارے میں شکوک و شبہات ختم کر سکے کہ پاکستان نے ایران اور دیگر ممالک کو مبینہ طور پر سینٹریفیوجز اور اس کے حصے فراہم کیے تھے۔ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ شیخ رشید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ہاتھ ملوث نہیں ہیں۔۔۔ حکومت ملوث نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||