BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 March, 2005, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینٹریفیوجز باہر بھیجنے پر غور

News image
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے سینٹریفیوجز کو معائنے کے لئے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کو بھجوانے پر غور کر رہا ہے تاکہ وہ دنیا کے اس بارے میں شکوک و شبہات ختم کر سکے کہ پاکستان نے ایران اور دیگر ممالک کو مبینہ طور پر سینٹریفیوجز اور اس کے حصے فراہم کئے تھے۔

ایک نئے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ سینٹریفیوجز بھجوانے کا معامہ زیر غور ہے۔

اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں رپورٹیں شائع ہوتی رہی ہیں کہ آئی اے ای اے نے پاکستان سے معائنے کے لئے سینٹریفیوجز مانگے ہیں۔ تاہم پاکستان کا دفتر خارجہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ پاکستان سینٹریفیوجز آئی اے ای اے کےویانا میں واقع ہیڈ کوارٹر بھجوانا چاہتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ملک کے جوہری سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو سینٹریفیوجز فراہم کئے تھے۔

تاہم ان کے مطابق ان سینٹریفیوجز کی تعداد کا انہیں علم نہیں اور نہ ہی پاکستانی حکومت ان سینٹریفیوجز کی فراہمی میں ملوث ہے۔

صدر نے بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی تحقیقات کے دوران آئی اے ای اے نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ ایران نے کہاں سے اور کیسے سینٹریفیوجز حاصل کئے۔

پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں ایک سوال پر صدر نے کہا کہ حکومت نے ان کے خلاف ایکشن لیا ہے اور اب ان کا کسی جوہری بلیک مارکیٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

جنرل مشرف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان سے جوہری برآمدات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات صرف اس بارے میں ہوئی تھیں کہ ایران کو جوہری برآمدات میں کون ملوث تھا۔

ادھر نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا ایک وفد اگلے ماہ کی دس تاریخ سے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر جوہری ٹیکنولوجی کے پر امن استعمال کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں پاکستان نے اس گروپ کا ممبر بننے کی درخواست کی ہے۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا کام ممبر ممالک میں جوہری برآمدات کو روکنا ہے تاکہ کوئی بھی ممبر ملک کسی دوسرے ملک کو جوہری طاقت بننے میں مدد نہ دے سکے۔

پاکستان کے جوہری سائنسدان اور ملک کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گذشتہ برس اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی، بین الاقوامی برادری میں جوہری معاملے پر خاصی تشویش ظاہر کی گئ تھی۔

پاکستان کی پارلیمان نےگذشتہ برس جوہری برآمدات پر قابو پانے کا ایک قانون بھی پاس کیا تھا۔

تاہم ذرائع ابلاغ میں گذشتہ ایک برس میں کافی رپورٹ شائع کی گئی ہیں جن میں پاکستان کے جوہری پراگرام کی حفاظت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد