’سینٹریفیوج ایران کو فراہم کیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو سینٹریفیوج سسٹم فراہم کیے تھے اور ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان سینٹریفیوجز سسٹم کی تعداد کا انہیں علم نہیں اور نہ ہی پاکستانی حکومت ان سینٹریفیوجز کی فراہمی میں ملوث ہے۔انہوں نے یہ بھی بتانے سے انکار کیا کہ یہ سینٹریفیوج سسٹم کس سال اور کس طرح ایران منتقل کیے گئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر نے یہ کام اپنی انفرادی حیثیت میں کیا اور ان کے اس فعل سے پاکستانی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت پاکستان کہتی رہی ہے کہ جوہری سائنسدان نے شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو جوہری راز فراہم کیے ہیں تاہم اس کی تفصیل پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی۔ ساتھ ہی ساتھ اس انکشاف سے نئے سوالات جنم لیں گے کہ یہ سینٹریفیوج سسٹم اور چند سینٹریفیوجز کیا سرکاری طیارے میں لے جائے گئے تھے اور یہ منتقلی کس دور میں ہوئی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت ڈاکٹر قدیر کو کسی کے حوالے نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر خان کو گزشتہ برس فروری میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اس وقت معافی دی گئی تھی جب انہوں نے ٹیلی ویژن پر آ کر ایٹمی رازوں کی منتقلی کا اعتراف کیا تھا۔ دریں اثناء وزیر اعظم شوکت عزیز نے آج اسلام آباد میں ایک تقریب میں کہا ہے کہ پاکستان کا جوپری پروگرام خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||