BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 November, 2004, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر قدیر سے متعلق پٹیشن خارج

ڈاکٹر قدیر
ڈاکٹر قدیر گزشتہ فروری میں حکومت سے معافی ملنے کے باوجود بھی غیراعلانیہ حراست میں ہیں
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جوہری پروگرام کے خالق سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حراست اور خرابی صحت کے متعلق آئینی درخواست واپس لیے جانے کی بنا پر نپٹا دی ہے۔

جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل بینچ نے بدھ کے روز سماعت شروع کی تو درخواست گزار حسام الحق کے وکیل ایڈووکیٹ چودھری اکرام نے آئینی درخواست واپس لینے کے لیے ایک درخواست دائر کی۔

وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پیغام ملا ہے کہ ان کے مفاد میں یہ ہی ہے کہ درخواست واپس لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان نے درخواست واپس لینے کا پیغام اس وقت بھیجا جب نائب امریکی وزیر رچرڈ آرمیٹیج پاکستان میں موجود تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سابق پرنسپل سٹاف افسر اسلام الحق کے بھائی حسام الحق نے سات ماہ قبل سپریم کورٹ میں آئینی درخواست داخل کی تھی۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی صحت خراب ہے اور وہ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ درخواست کے مطابق ڈاکٹر خان کو علاج معالجے کی سہولت بھی حاصل نہیں۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ڈاکٹر خان کو عدالت میں طلب کیا جائے اور ان کا غیرجانبدار ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا جائے۔

بدھ کو عدالت نے سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے درخواست کا جواب داخل کیا جس میں بتایا کہ ڈاکٹر خان کی صحت معمول کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو براہ راست یہ درخواست سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی جاسکتی اور نیز یہ کہ درخواست دہندہ غیرمتعلقہ شخص ہے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار کے وہ دعوے جن میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان نفسیاتی مریض بن گئے ہیں، ان پر دورہ پڑا اور وہ بے ہوش ہوگئے تھے یا کہ امریکی خفیہ ادارے والے ان سے تفتیش کر رہے ہیں وہ تمام دعوے غلط ہیں۔

اٹارنی جنرل کے مطابق سوائے اتوار کے ایک نرس روزانہ ڈاکٹر خان کا بلڈ پریشر چیک کرتی ہے جبکہ دوسری نرس ہر وقت سٹینڈ بائی رہتی ہے اور وہ ہی ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے ہیں جو ان کی حراست سے قبل کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈاکٹر خان ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔

اٹارنی جنرل کی پیشکش پر عدالت نے رجسٹرار کو ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں تصدیق کے لیے بھیجا اور سماعت کچھ دیر معطل رکھی۔ رجسٹرار ڈاکٹر خان کے پاس گئے اور واپس آکر عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر خان نے انہیں بتایا ہے کہ ان کا علاج ٹھیک ہورہا ہے اور یہ درخواست ان کی مرضی کے بغیر دائر ہوئی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ کیا ڈاکٹر خان کے خاندان کے افراد کو عیدالفطر پر ان سے ملاقات کی اجازت ہوگی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ضمن میں انہیں حکومت سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں ۔ان کے اس جواب اور رجسٹرار کی رپورٹ کے بعد درخواست گزار کی جانب سے آئینی درخواست واپس لیے جانے کی بنا پر آئینی درخواست عدالت نے خارج کرنے حکم سنایا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری پھیلاؤ کے مبینہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے رواں سال کی ابتدا میں برطرف کرکے کئی ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

بعد میں ڈاکٹر خان نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور معافی کی درخواست بھی کی جو صدر نے قبول کرلی تھی۔

ڈاکٹر خان نے سرکاری ٹی وی چینل پر اپنے خطاب میں جوہری کاروبار میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ان کے بیشتر زیر حراست ساتھی رہا ہوچکے ہیں ماسوائے ڈاکٹر محمد فاروق کے، جو اب بھی نظربند ہیں۔

گزشتہ فروری سے ڈاکٹر خان معافی ملنے کے باوجود بھی حکومت کی غیراعلانیہ حراست میں ہیں۔ حال ہی میں ان کے قریبی ساتھیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر خان کی صحت انتہائی خراب ہے اور قوم کو کسی وقت بھی بری خبر مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد