ڈاکٹر قدیرکےساتھی سے پوچھ گچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے ایک شہری کے ساتھ، جو پاکستانی ایٹمی سائینسدان ڈاکٹر قدیر خان کے قریبی ساتھی رہے ہیں، جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے متعلق پوچھ گچھ کی جا رہی ہیں۔ ان تحقیقات کا دائرہ سن ستر کی دہائی تک پھیلا ہوا ہے جب ڈاکٹر قدیر ہالینڈ میں ایک جوہری ادارے میں کام کرتے تھے۔ ہالینڈ کے شہری ہینک سلیبوس پر قائم مقدمے کے مطابق انہوں نے سن انیس سو ننانوے اور دو ہزار دو کے درمیان بیس کلوگرام ایساممنوعہ کیمیائی مواد پاکستان کو برآمد کیا تھا جو مسٹرڈ گیس اور بال بئیرنگ سمیت بعض دیگر آلات بنانے میں کام آتا ہے۔ مقدمے میں ایک اور فرد اور دو دیگر اداروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ہینک سلیبوس کو ڈاٹر عبدالقدیر خان کا تجارتی ساتھی سمجھا جاتا ہے تاہم مقدمے کے لیے داخل کی گئی فرد جرم میں ان کا ڈاکٹر خان سے تعلق نہیں بتایا گیا ہے۔ ہالینڈ کے ایک سرکاری وکیل کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نامزد افراد اور اداروں نے سن انیس سو ننانوے اور سن دو ہزار دو کے درمیان ممنوعہ اشیاء کے برآمدی قانون کی قابل سزا خلاف ورزیاں کی ہیں۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اعتراف کے بعد سے ہالینڈ کے سرکاری وکلاء ڈاکٹر خان کے ادارے اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز کو ہالینڈ سے ممنوعہ اشیاء اور ٹیکنالوجی کی برآمد کی تفتیش کررہے ہیں۔ ہالینڈ کے حکام کے مطابق انہوں نے ہینک سلیبوس کے ادارے سلیبوس ریسرچ اور ایک اور ڈچ ادارے کی جانب سے سن انیس اٹھانوے میں بھی خان ریسرچ لیبارٹریز کو ممنوعہ اشیاء کی پانچ مرتبہ برآمدات کا پتہ چلایا تھا لیکن اس معاملے میں کوئئ مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تھا۔ہینک سلیبوس اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ملاقات سن ساٹھ کی دہائی میں ہالینڈ کی ڈیلف ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ان کو اسی طرح کے الزام میں سن انیس سو پچاسی میں بھی ایک مقدمے میں ایک برس قید کی سزا دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||