BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر قدیرخان پر نئی کتاب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی دوست ہونے کے دعویدار زاہد ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر خان کی حالت خاصی تشویش ناک ہے اور کسی بھی وقت عوام کو بری خبر مل سکتی ہے۔

یہ انکشاف انہوں نے’ڈاکٹر اے کیو خان کی ڈی بریفنگ‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں کیا ہے۔ کتاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کمزور ہوگئے ہیں اور ان کا وزن بتیس پاؤنڈ کم ہوگیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق ڈاکٹر خان جہاں شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں اور فشار خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور وہاں انہیں دل کا عارضہ بھی لاحق ہے۔

انہوں نے ایک جانب لکھا ہے کہ ڈاکٹر خان سے ملاقاتوں پر پابندی ہے اور معالج ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں معلومات دینے سے انکاری ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی مصنف نے ڈاکٹر خان کی خراب صحت کے بارے میں دعویٰ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ معلومات کس نے فراہم کی۔

زاہد ملک، جو کہ ایک انگریزی روزنامہ ’پاکستان آبزرور‘ کے مالک بھی ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر کی شخصیت اجاگر کرنے کے لیے پہلے بھی کتابیں لکھتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر خان سے مالی فوائد حاصل کرنے والوں میں بھی زاہد ملک کا نام آتا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ جب ڈاکٹر خان کے ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا اس وقت انہوں نے اپنی بیگم سے کہا تھا کہ ان کا تھیلا بھی تیار رکھیں۔

پاکستان کا جوہری بم بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر خان کو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی سربراہی سے تین برس قبل ہٹادیا گیا تھا اور صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنا مشیر مقرر کیا تھا۔

ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی مواد اور آلات فراہم کرنے اور ’نیوکلیئر انڈر ورلڈ‘ چلانے کے الزامات کے بعد رواں کے دوران سال جہاں ڈاکٹر خان کو مشیر کے عہدے سے ہٹایا گیا وہاں حکومت نے جوہری برآمدات کے مبینہ غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت پوچھ گچھ کے لیے انہیں حراست میں بھی لیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی چینل پر آکر جوہری کاروبار میں ملوث ہونے کا خود اقرار بھی کیا تھا جس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں مقدمہ چلائے بغیر معافی دے دی تھی۔ معافی کے بعد بھی زاہد ملک کے مطابق گزشتہ سات ماہ سے ڈاکٹر خان کو ان کے اسلام آباد کے ایک مکان میں غیراعلانیہ طور پر نظربند رکھا جارہا ہے۔

اپنی کتاب میں مصنف نے زیادہ تر جوہری برآمدات کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر خان اور ان کے حراست میں لیے گئے ساتھیوں کے بارے میں وقفہ وقفہ سے اخبارات میں شائع ہونے والی پرانی خبروں کا تذکرہ کیا ہے اور حسب معمول ڈاکٹر خان کی تعریفیں کی ہیں۔انہوں نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے سازش کی ہے۔

کتاب میں مختلف سیاستدانوں کے وہ بیانات بھی شائع کیے گئے ہیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اعلیٰ فوجی افسران کو بچانے کے لیے سائنسدانوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ مصنف نے ان بیانات کی بنیاد پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ڈاکٹر خان نے اقرار جرم بھی پاکستان کے مفاد میں کیا اور الزام اپنے سر پر لیا۔

دو سونوے صفحات کی اس کتاب میں ڈاکٹر خان کی حراست کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ’دوران گفتگو فوج کے ایک کیپٹن اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر ڈاکٹر صاحب کو پیش کرتا۔ ڈاکٹر صاحب کے غیر معمولی بڑے مرتبے اور مقام کا پورا خیال رکھا جاتا اور اگر ڈی بریفنگ کے دوران کبھی کھینچاؤ پیدا بھی ہوتا وہ بھی شرافت کے دائرے کے اندر اور اگر کبھی کوئی دھمکی آمیز گفتگو ہوئی بھی تو وہ بھی معذرت خواہانہ انداز میں۔‘

مصنف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ دوران تفتیش ڈاکٹر خان سے’حکام‘ نے غلط برتاؤ نہیں کیا۔

ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے جمعرات کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کو امریکی دباؤ کے تحت نہیں ہٹایا گیا بلکہ یہ حکومت پاکستان کا اپنا اندرونی فیصلہ تھا۔ ترجمان نے واشنگٹن پوسٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کے نائب وزیر این ہارن اور پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی کے درمیان گفتگو کے حوالے سے جو جملہ لکھا ہے اس کی بھی تردید کی اور اسے من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان یہ بات چیت ہوئی ہی نہیں تھی۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ جوہری کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت زیر حراست ڈاکٹر محمد فاروق کے سوا ان کے تمام ساتھی رہا ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد