BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2004, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری ٹیکنالوجی پر نئی بحث
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے اعتراف کے بعد یہ بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے کہ کیا پاکستان اور شمالی کوریا نے مشترکہ طور پر کوئی خفیہ جوہری تجربہ کیا تھا؟

یہ بحث امریکی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے درمیان شروع ہوئی ہے اور اس کا تعلق بہت حد تک انیس سو اٹھانوے میں پاکستان کی طرف سے کیئے گئے ان جہوری دھماکوں سے ہے جو اس نے بھارت کے جوہری دھماکوں کے جواب میں کیئے تھے۔

اخبار کے مطابق مئی انیس سو اٹھانوے میں جب پاکستان نے زیرِ زمین جوہری دھماکے کیئے اور یہ کہا کہ یہ اس کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اب امریکہ میں خفیہ اداروں سے وابستہ سابق اور موجودہ اہکار کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے دھماکوں کے بعد امریکہ نے ایک خصوصی جیٹ طیارہ پاکستان روانہ کیا تھا۔

یہ جہاز بلوچستان کے علاقے چاغی کی فضاؤں میں ہوا کا نمونہ حاصل کرنے گیا تھا جس کے تجزیے کے بعد، بقول امریکی اہلکاروں کے، یہ بات سامنے آئی کہ چاغی کی ہواؤں میں پلوٹونیم کی آمیزش تھی۔

اس انکشاف کے بعد، امریکی ورطۂ حیرت میں آ گئے کیونکہ پاکستان نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ اس کے تمام جوہری بموں کے لئے انتہائی افژودہ یورینیم درکار تھا نہ کہ پلوٹونیم اور یہ یورنیم ڈاکٹر قدیر خان کی تجزیہ اور تجربہ گاہ میں بنا تھا۔

مئی اٹھانوے کے ٹیسٹ کے بعد اس بات پر خاصی بحث رہی کہ ڈاکٹر قدیر سے مدد حاصل کرنے کے صلے میں شمالی کوریا نے شاید پاکستان کو مشترکہ جوہری ٹیسٹ کے لئے قیمتی پلوٹونیم دیا تھا۔

یہ بحث جو انیس سو اٹھانوے میں شروع ہوئی تھی، عارضی طور پر دب تو گئی لیکن اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکی۔ تاہم گزشتہ ماہ ڈاکٹر قدیر کے اعتراف کے بعد کہ انہوں نے لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی، مسئلہ ایک مرتبہ پھر اجاگر ہو گیا ہے۔

امریکی تجربہ گاہوں میں ایک بار پھر اُسی بحث کی بازگشت گونج رہی ہے جو چند برس پہلے دب گئی تھی۔ یہ بحث اس اعتبار سے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ ہفتۂ رواں میں امریکہ اور چین کے مابین کثیرالجہتی مذاکرات ہو رہے ہیں جن میں فوری توجہ کی ایک امریکی پریشانی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کو اس کا جوہری پروگرام روکنے اور پھر ختم کر دینے پر آمادہ کیا جائے۔

اس حوالے سے سی آئی اے ہنگامی طور پر ایک رپورٹ تیار کر رہا ہے جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ شمالی کوریا نے ڈاکٹر قدیر سے ممکنہ طور پر کیا کیا حاصل کیا ہوگا کیونکہ امریکہ اور چین کی گفتگو کے موضوع کا انحصار بہت حد تک اس سوال کے جواب پر ہے۔

پاکستان چونکہ امریکہ کااتحادی ہے لہذا سیاسی ماحول زیادہ شوریدہ نہیں ہے اور کونڈولیزا رائس اور کولن پاؤل سمیت دیگر امریکی صاحبانِ مناصب بھی یہ کہہ رہے کہ انہیں یاد نہیں کہ پاکستان اور شمالی کوریا نے کوئی مشترکہ تجربہ کیا ہو۔ امریکہ جنرل مشرف کے لئے بھی کوئی نیا مسئلہ کھڑا کرنے پر تیار نہیں غالباً یہی سبب ہے کہ اس مسئلے پر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی راہداریوں میں بھی آوازِ احتجاج نہیں بلکہ سکوت کا عالم ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد