قدیرخان محافظِ پاکستان ہیں: وکلاء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ میں وکلاء نے جمعہ کے روز آمریت مردہ باد کے پُر شور نعروں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محافظِ پاکستان کا خطاب دیا ہے۔ وکلاء نے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس میں ملک کی تمام وکلاء تنظیموں اور بار ایسوسی ایشنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اپنی بار ایسوسی ایشنوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصاویر آویزاں کریں۔ پاکستان کے ایٹمی بم کے خالق قرار دیے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حکومت کی طرف سے پیسوں کی خاطر ایٹمی ٹیکنالوجی ایران ، شمالی کوریا اور لیبیا منتقل کرنے کے الزامات کے بعد سرعام معافی کی درخواست کے بعد معافی دی گئی اور وہ اسلام آباد میں غیراعلانیہ نظربندی گزار رہے ہیں۔ جعمہ کی دوپہر کیانی ہال ، جو ملک میں روایتی طور پر وکلا کی آئینی جدوجہد اور جمہوریت کی تحریکوں کا مرکز رہا ہے، وکیلوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جنھوں نے اپنے سینوں پر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فوٹو کے بیجز لگائے ہوۓ تھے۔ وکیل آمریت مردہ باد اور عبدالقدیر خان کے نعرے لگاتے رہے اور بار نے انہیں محافظ پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اس تقریب میں نواۓ وقت گروپ کے مالک مجید نظامی نے بار کے صدر حافظ عبدالرحمان انصاری کے ساتھ مل کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایک بڑا پورٹریٹ کیانی ہال میں آویزاں کرنے کے لیے اٹھایا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مجید نظامی کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک نہں کرسکتے کیونکہ قوم انھیں ایسا نہیں کرنے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام پاکستان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بھی ، جن سے مجید نظامی کا قریبی تعلق رہا ہے، اپنے دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پیچھا چھڑانا چاہتے جس پر انھوں نے ان کے والد میاں شریف سے رابطہ کیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حافظ عبدالرحمان انصاری نے بی بی سی سے کہا کہ کیانی ہال میں لگائی گئی یہ تصویر وکلاء کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے عقیدت اورمحبت کا اظہار ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم اور وکلاء برادری خاص طور پر ڈاکٹر قدیر کو قوم کا محسن سمجھتی ہے اور وہ ان کے قومی ہیرو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر قدیر کو جس طرح میڈیا میں مجرم بنا کر پیش کیا اور ان سے معافی کی درخواست دلوائی گئی اور انھیں معافی دی گئی اسے قوم اپنے ہیرو کی ہتک سمجھتی ہے جس سے لوگوں کے سر شرم سے جھک گۓ ہیں۔ کل صبح لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نۓ صدر کا انتخاب ہورہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||