’لیبیا کو یورینیم ڈاکٹرقدیرنےدیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو ایران کو ایٹمی پرزے بیچنے کے تیس لاکھ ڈالر دئیے گئے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے خبر دی ہے کہ ایران کو ایٹمی پرزوں کی فراہمی کے مبینہ سودے میں ’مِڈل مین‘ کا کردار ادا کرنے والے شخص نے پولیس کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے انیس سو نوّے کی دہائی میں پرزے بیچے۔ ملائیشیا کی پولیس سری لنکا کے شہری سید ابو طاہر نامی شخص سے پوچھ گچھ کر رہی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے ان کی وساطت سے لین دین کیا۔ اے پی نے کے مطابق پولیس رپورٹ میں ابو طاہر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں سن دو ہزار ایک میں بتایا گیا تھا کہ افزودہ یورینیم ایک پاکستانی جیٹ طیارے میں لیبیا پہنچائی گئی تھی۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ یورپی تاجر بھی لیبیا کو یورینیم فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ اس سلسلے میں ابو طاہر نے مبینہ طور کچھ ترک، سوِس، جرمن اور برطانوی تاجروں کا نام لیا ہے۔ ملائیشیا کی پولیس ان تاجروں کی تحویل کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ ’سینٹری فیوج یونٹوں کے دو کنٹینروں کا معاوضہ تیس لاکھ ڈالر کے قریب تھا‘ جو ایک نامعلوم ایرانی کے حوالے کیا گیا۔ اے پی کی خبر کے مطابق ابو طاہر نے پولیس کو بتایا کہ رقم دو بریف کیسوں میں لائی گئی تھی جو دبئی میں ایک اپارٹمنٹ میں رکھےگئے جسے ڈاکٹر قدیر کے مہمان خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||