’صدر مشرف سب کچھ جانتے تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان بولٹن نے کہا ہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سرگرمیوں کے بارے میں چند سال پہلے سے ہی آگاہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرف نے سیاسی دباؤ کے باعث ڈاکٹر خان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ جان بولٹن نے امریکی موقف کو دہرایا کہ مشرف یا کوئی بھی اور اعلیٰ پاکستانی اہلکار عبدالقدیر خان کی سازش میں نہ تو شریک تھے اور نہ ہی ان کی کارروائیوں کے حامی تھے یہی وجہ ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آئے۔ جان بولٹن واشنگٹن میں کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں حزب مخالف نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ انہوں نے صدر بش پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستانی رہنماؤں پر ڈاکٹر خان کی کارروائیوں کی ذمہ داری عائد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے مختلف ممالک اور اداروں کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہا ہے کہ وہ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ ناجائز روابط نہ رکھیں۔ ان دونوں ممالک کی جوہری سرگرمیاں امریکہ کے لئے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے گزشتہ برس فروری میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری معلومات فراہم کی ہیں۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کام میں پاکستانی صدر یا پاکستانی حکومت ملوث نہیں ہے۔ جان بولٹن نے کہا کہ امریکی حکام نے خان کی سرگرمیوں کی تفتیش کی ہے ’تاہم انہوں نے ہمارے سامنے یہ ثابت نہیں کیا کہ پاکستانی حکام اس تمام سازش میں ملوث نہیں تھے‘۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف نے جب ڈاکٹر خان کو سن دو ہزار ایک میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کی سربراہی سے برخاست کیا تھا تو انہیں ان کی سرگرمیوں کا علم تھا۔ انہوں نے مزید کہا ’یہ معاملہ صدر مشرف کے لئے ملک کے اندرونی حالات کے سبب بہت مشکل تھا اور اسی کے نتیجے میں ان پر دو قاتلانہ حملے بھی کئے جاچکے ہیں۔ جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ایران اور لیبیا کے اپنے جوہری پروگرام کے افشا کرنے کے بعد ہی امریکہ اس قابل ہوا کہ مشرف نے ڈاکٹر خان کے خلاف کارروائی کی۔ نیو یارک کے ایک ڈیمو کریٹ گیری ایکرمین نے صدر بش پر الزام لگایا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مشرف نے صدر بش کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور امریکہ انہیں غیر مستحکم کرنے کی خواہش نہیں رکھتا تاہم امریکہ نے پاکستان پر عائد پابندیاں اٹھا کر پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ گیری ایکرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر نیٹو حلیف قرار دینا امریکہ کے دہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||