BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 December, 2004, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی منڈی: جواب طلب سوالات

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
ایک سال قبل لیبیا نے یہ اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا خفیہ منصوبہ ترک کررہا ہے۔ کئی لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ لیبیا کے پاس کوئی ایٹمی منصوبہ بھی ہے۔

لیبیا کے اعلان سے چاہے دنیا کو حیرت ہوئی ہو لیکن واشنگٹن اور لندن میں ایک چھوٹے سے حلقے میں اس پر کوئی تعجب نہیں تھا کیونکہ یہ لوگ اپنے ممالک کے رازوں سے واقف تھے۔

لیکن اب یہ واضح ہے کہ ایک عشرے سے زائد سے برطانوی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس طرح کی اطلاعات مل رہی تھیں کہ کوئی ایٹمی ہتھیاروں کے راز فروخت کررہا ہے۔

یہ اطلاعات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خفیہ نیٹ ورک کی جانب اشارہ کررہی تھیں۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ نے ڈاکٹر خان کو اتنا ہی خطرناک بتایا جتنا کہ اسامہ بن لادن۔

اس بات کی تفصیلات اب موصول ہونا شروع ہوئی ہیں کہ اس نیٹ ورک میں دراندازی کیسے کی گئی اور کون سے سوالات ہیں جو اب بھی جواب طلب ہیں۔

برطانوی خفیہ ادارے اور سی آئی ای نے انیس سو نوے کے اواخر میں ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان ایجنسیوں نے کئی آپریشن کیے اور اپنے ایک افسر کو اس نیٹ ورک میں جگہ دلائی۔

دیگر ذرائع اور برطانوی انٹیجینس ہیڈکوارٹر کی مدد سے انہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خریداروں، جعلی کمپنیوں، مالی فراہمی اور لیبارٹریوں کے جال کا پتہ چلا۔

جیسے جیسے یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر خان نے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک تیار کیا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے لیے آلات فراہم کررہا ہے، برطانیہ کی جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی میں اس موضوع پر سن دوہزار کے آغاز سے تشویش کا اظہار کیا جانے لگا۔

واشنٹگن میں امریکی انٹیلیجنس کے کچھ اہلکار چاہتے تھے کہ ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک اور لیبارٹریوں کو تباہ کیا جائے۔ لیکن کچھ سفارت کار اس بات پر فکرمند تھے کہ ایسا کرنے سے پہلے خفیہ اطلاعات کو ذرائع ابلاغ کے سامنے لانا پڑے گا تاکہ حکومتوں پر اس نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

لیکن انٹیلیجنس کے بعض اہلکاروں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ ایسا کرنے سے انٹیلیجنس کے ذرائع کا نقصان ہوسکتا ہے۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کچھ انتظار کیا جائے اور مزید معلومات حاصل کی جائیں۔

بعض ماہرین تاخیر کرنے کے اس فیصلے پر خوش نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا مزید موقع مل جائے گا، بالخصوص ان ہتھیاروں کا جن کے بارے میں شاید انٹیلیجنس کو کچھ معلوم نہیں۔

لیکن مارچ دو ہزار تین میں ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے لیبیا کے اعلان سے انٹیلیجنس برادری کو اس بات کا موقع ملا کہ صرف خفیہ کارروائی کرنے کے بجائے عوامی سطح پر اس بارے میں کچھ کیاجائے۔ اس سے اس بات کا موقع بھی ملا کہ خفیہ معلومات حکومتوں اور انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کو کارروائی کے لیے فراہم کیا جائے۔

جاسوسوں سے ملنے والی اطلاعات نے بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ لیبیا تمام حقائق سامنے لائے، لیکن ساتھ ہی لیبیا کی حکومت کے ساتھ ہونے والے طویل مذاکرات کی وجہ سے ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر ہوتی گئی۔

جب سے ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے تب سے جنوبی افریقہ سے ملیشیا اور ترکی تک کئی لوگوں کو حراست میں لیاجاچکا ہے۔ اگرچہ یہ کہا جارہا ہے کہ ڈاکٹر خان کا نیٹ ورک بند کردیا گیا ہے تاہم تفتیش کار ان لوگوں سے پوچھ گچھ کررہے ہیں جن کا اس نیٹ ورک سے تعلق رہا تھا۔

کئی سوالات جواب طلب ہیں۔ سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک سے ’ایران کے ایٹمی پروگرام کو اہم امددا ملی‘۔ حکام اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ لیبیا اور ایران کو ڈاکٹر خان سے ملنے والے معلومات میں کافی مماثلت ہے۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہے، نہ کہ صرف ایٹمی توانائی۔

یہ بھی صحیح طور پر نہیں معلوم ہے کہ شمالی کوریا کو ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک سے ملنے والی معلومات کی صحیح نوعیت کیا تھی۔ لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کا ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک سے تعلق رہا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک چوتھا ملک بھی ہے جسے ان کی مدد ملی۔

اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایسا دوبارہ سے ہوسکتا ہے۔ ایٹمی راز پھیلانے والوں کو کافی پیسہ ملتا ہے۔ ایک وقت ڈاکٹر خان کے ایک مڈل مین کو تین ملین ڈالر کا بریف کیس دیا گیا۔

کبھی کبھی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس بات کے اشارے ملتے رہتے ہیں کہ منڈی میں ایٹمی ہتھیاروں کی خریدو فروخت کا کام جاری ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ لوگ پیسہ کمانے کے لیے اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد