’معافی معاہدہ کا نتیجہ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک فوجی ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کی معافی کے بدلے امریکہ سے کوئی معاہدہ کیا گیا ہے۔ امریکی ہفتہ وار جریدے ’دی نیویارکر‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدل قدیر خان کو معافی دینے کے فیصلے پر امریکی حمایت حاصل کرنے کے بدلے میں امریکی حکومت نے پاکستان سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکی فوجیوں کو اجازت ہوگی کہ وہ پاکستان کی سرزمین پر آکر اسامہ بن لادن کو تلاش کرسکیں۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ واقع پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ہزارروں امریکی فوجی تعینات کئے جائیں گے۔ گزشتہ ماہ جوہری معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عبدل قدیر خان کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دی نیویارکر کی رپورٹ میں ایک سابق امریکی اعلیٰ فوجی افسر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس معافی کے بدلے میں امریکی حکومت نے صدر مشرف سے ایک معاہدہ کیا ہے۔ ’ہم نے مشرف پر زور نہیں دیا کہ وہ قدیر خان سے دوسری طرح سے نمٹیں اور اس کے بدلے میں ہم اپنے فوجی پاکستان بھیجیں گے‘۔ اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے شوکت سلطان نے کہا ہے کہ قومی خود مختاری کے معاملات پر ایسے معاہدے نہیں کئے جاتے۔ ’ہم اسے پوری طرح سے رد کرتے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے ان خبروں پر بیان دینے سے گریز کیا جن کے تحت امریکہ صدام حسین کی تلاش میں استعمال کیا جانے والا خصوصی فوجی کمانڈو یونٹ اسامہ بن لادن کی تلاش میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شوکت سلطان نے کہا ’اگر امریکہ اپنا کوئی خصوصی فوجی دستہ عراق سے افغانستان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن امریکی فوجی پاکستان نہیں آرہے‘۔ رپورٹ میں اعلیٰ امریکی اہلکار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر بش نے اسامہ بن لادن کی تلاش کی کوششیں تیز تر کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے نئی افواج اور نئے طریقـۂ کار استعمال کئے جائیں گے۔ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کی تلاش میں سرگرداں امریکی فوجی اس الجھن کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ یہ تلاش کچھ آسان کام نہیں کیونکہ مطلوبہ افراد باآسانی سرحد پار کرکے افغانستان سے پاکستان چلےجاتے ہیں۔ امریکی حکومت پاکستان پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ان افراد کی تلاش میں مزید فعال کردار ادا کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||