BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 March, 2004, 18:44 GMT 23:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حراست پر جواب طلب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
’جہاں تک ڈاکٹر خان کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر مملکت کی جانب سے معافی دینے کا تعلق ہے وہ قومی سلامتی اور راز داری کا معاملہ ہے‘
پاکستان کی عدالت عظمٰی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے ملازمین کی مبینہ حراست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل سے تین ہفتوں کےاندر جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی، جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر پر مشتمل سپریم کورٹ کی فل بینچ نے سائسندانوں، ریٹائرڈ فوجیوں اور دیگر ملازمین کی حراست کے خلاف داخل ایک ہی نوعیت کی پانچ مختلف درخواستوں کی اکٹھی سماعت کی ۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ایک موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ایسا ثابت ہونے سے پہلے سائنسدانوں کو مجرم تصور کرنا غلط ہوگا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر مملکت کی جانب سے معافی دینے کا تعلق ہے وہ قومی سلامتی اور راز داری کا معاملہ ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلاء ایڈوکیٹ چودھری اکرام، حبیب الوھاب الخیری اور اقبال حیدر کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ کے آر ایل کے ملازمین کے خلاف شکایات ابھی محض الزام ہیں ۔

ڈاکٹر قدیر خان کے سابق پرنسپل اسٹاف افسر میجر (ر) اسلام الحق کے درخواست گزار بھائی حسام الحق اور ڈاکٹر فاروق کی اہلیہ کے وکیل چودھری اکرام نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مبینہ حراست کو بھی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا تھا۔

لیکن لاہور ہائی کورٹ نےیہ کہہ کر درخواست واپس کردی تھی کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد حبس بے جا کی درخواست قبول نہیں ہوسکتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ متعلقہ علاقے کے مجسٹریٹ اور ایس ایچ او کو بھی ایف آئی آر کا علم نہیں۔

چیف جسٹس نے استفصار کیا کہ ڈاٹر قدیر خان کے خاندان کے کسی فرد نے کیوں نہیں درخواست دائر کی تو وکیل نے کہا کہ انکی بیٹی ملک سے باہر ہیں اور کسی کا بھی ڈاکٹر خان اور ان کی بیگم سے رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ خود بھی رابطے کی کوشش کرتے رہے تاہم ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہو اس کی حراست کو کوئی بھی شہری چیلنج کرسکتا ہے۔

درحواست گزار وکیل حبیب الوھاب الخیری نے کہا کہ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے اور سپریم کورٹ کو ایٹمی پروگرام کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو بھی قومی کمانڈاتھارٹی کا رکن ہونا چاہیے۔

انہوں نے ڈاکٹر خان کی زندگی کو لاحق خطرے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عدالت پر زور دیا کہ ان کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ خیری نے ڈاکٹر قدیر خان کو امریکہ یا کسی بیرونی ملک کے حوالے کرنے پر پابندی لگانے کا عدالت سے مطالبہ بھی کیا ۔

ایک اور درخواست گزار وکیل مولوی اقبال حیدر نےعدالت سے کہا کہ ڈاکٹر خان کو ملنے والی معافی کا جائزہ لینے کیلئے جج مقرر کیا جائے اور وہ جج کم سے کم ڈسٹرکٹ و سیشن جج سے کم نہ ہو کیونکہ کسی عدالت یا ٹریبیونل میں مقدمہ چلے بغیر معافی دینے کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ۔

انہوں نے عدالت سے بند کمرے میں سماعت کی درخواست بھی کی جو عدالت نے مسترد کردی۔

جب درخواست گزارنے ڈاکٹر خان کو عدالت میں پیش ہو کر ایٹمی مواد بیچنے کے متعلق اعترافی بیان کی وضاحت کرنے کا نکتہ اٹھایا تو جج نے کہا کہ’ہم اپنے اختیارات (پوزیشن) جانتے ہیں‘ ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد