جوہری تنازعہ پر لوگوں کا ردِعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور کے لوگ ملک میں جاری جوہری تنازعہ کے سلسلے میں ڈاکٹر قدیر خان کے اعتراف پر کیا کہتے ہیں۔
سید کوثر احمد، ریٹائرڈ ملازم: جب ڈاکٹر قدیر نے اعتراف کرلیا تو اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ وہ ملوث تھے۔ یہ اعتراف انہوں نے ضرور دباؤ میں کیا ہوگا۔ جوہری ٹیکنالوجی تو پاکستان بھی چوری سے آئی تھی لہذا اس کا حال تو یہی ہونا تھا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جیسی بنیاد ویسی عمارت۔ فوجی قیادت کو اس ساری منتقلی کا علم ہوگا۔ تالی ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی۔
فیصل جاوید، ڈاکٹر: ابھی تک صورتحال مکمل طور پر واضع نہیں ہے۔ ڈاکٹر قدیر ملوث تو ہونگے لیکن ان کا اقبالی بیان حکومت اور صدر مشرف کے کہنے پر تیار کیا گیا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں فوج بھی ضرور ملوث ہوگی۔ اخبارات میں تو دو برگیڈیرز اور ایک میجر کا نام بھی آیا ہے۔
محمد درویش، ملازم: ڈاکٹر قدیر خان نے قربانی دے کر پاکستان کو بچا لیا ہے۔ فوج اور سیاست ایک چیز ہیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا مجھے خوف آتا ہے۔ آپ تو سمجھتے ہیں۔ تمام معملات کی حفاظت تو فوج ہی کا کام ہے۔ ڈاکٹر قدیر یہ قربانی دے کر ایک مرتبہ پھر ہیرو بن گئے ہیں۔
آصف خان، طالب علم: ڈاکٹر قدیر قصور وار تو ہونگے البتہ ان کا ارادہ اس کا نہیں تھا۔ علم کے پھیلاؤ پر تو کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اس تمام معاملے میں فوج بھی ضرور ملوث ہوگی بلکہ ساری ڈیلینگ تو انہوں نے ہی کی ہے۔
محمد ارشد، طالب علم: اس بارے میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ ڈاکٹر قدیر اس قصے میں ملوث ہیں یا نہیں لیکن ایک بات واضع ہے کہ اس میں فوج کا ہاتھ ضرور تھا۔ فوج کے پاس ہی تمام تنصیبات کا کنٹرول ہے۔ اس کے علم کے بغیر کیسے کوئی ٹیکنالوجی منتقل کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ کام فوج کے علم کے بغیر بھی ڈاکٹر قدیر نے ذاتی حیثیت میں کیا ہے تو بھی یہ فوج کی ہی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کا ایک ملازم کیسے یہ سب کرسکتا ہے۔ افتخار خان، تاجر: ڈاکٹر قدیر قصور وار نہیں۔ کون اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار سکتا ہے۔ اپنی بنائی ہوئی چیز کوئی فروخت کیسے کر سکتا ہے؟ اس معاملے میں فوج بھی ملوث ہے یہ تو عام فہم بات ہے۔ اس کے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ محمد کامران، سیلزمین اور قرآن کے معلم: اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ہمیں معلوم نہیں کہ کیا سچ ہے۔ البتہ اس نے جو کیا درست کیا۔ اللہ تعالی نے بھی فرمایا ہے کہ ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کی مدد کرنے چاہئے۔ آپ دیکھیں تمام کافر متحد ہیں جبکہ مسلمان منقسم۔ وہ کوئی برا نہیں کر رہے تھے۔ محمد علی، اسلام آباد: مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات کی معافی طلب کر ہے ہیں۔ انہوں نے جو بھی کیا پاکستان کے لئے کیا۔ گُل، اسلام آباد: اگر یہ سب انہوں نے کیا ہے تو یہ انکے اور پوری قوم کے لئے باعثِ شرم ہے۔ ایسے عہدوں پر فائز لوگوں کو محتاط رہنا چاہئے کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔ البتہ وہ اب بھی ایک ہیرو ہیں۔ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے تو پھر بھی انہیں معاف کر دینا چاہئے کیونکہ انہوں نے ہمارے لئے بہت بڑا کام کیا ہے۔ علیم، اسلام آباد: میرے خیال میں ڈاکٹر قدیر کو پھنسایا گیا ہے۔ اس تمام صورت حال کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے اور اس نے جنرلوں اور بریگیڈیئروں کو ان الزامات سے بچانے کے لئے یہ سب کیا ہے۔ میرے خیال میں انہیں معافی کا دیا جانا بھی صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت کا ڈرامہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||