’ہمارے عزیز کہاں ہیں؟‘ پاکستان میں تقریباً دو ماہ سے ’ڈیبریفنگ‘ کے نام پر خان ریسرچ لیبارٹری سے وابستہ سائنسدانوں اور ملازمین سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت اسے معمول کی کارروائی قرار دیتی ہے۔ تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ اگر یہ معمول کی کارروائی ہے بھی تو ماضی میں اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا گیا۔ ان افراد کے اہلِ خانہ زیرحراست افراد سے روا رکھے جانے والے سلوک پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔  | | پاکستان کے زیرِ حراست سائنسدانوں کے رشتہ دار اکیس جنوری دو ہزار چار کو بارش کے دوران اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی پلے کارڈ اٹھائے ہوئے۔ یہ لوگ تقریباً پچاس منٹ تک احتجاج کرتے رہے لیکن نہ تو سینیٹر اور نہ ہی حزب مخالف کے کسی رکن نے باہر آ کر احوال جاننے کی کوشش کی۔ | |
 | | سائنسدانوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے اکیس جنوری کو احتجاج کے دوران پولیس اہلکار پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر چوکنا کھڑے ہیں۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری یہاں موجود رہی۔ | |
 | | ڈاکٹر نذیر احمد کی بیٹی صائمہ عادل اور دیگر سائنسدانوں کے اہلِ خانہ اکیس جنوری کو سینیٹ کے اجلاس کے وقت پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی پوسٹر اٹھائے ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین سے کہا کہ ان کے احتجاج پر توجہ دی جا رہی ہے اس لئے وہ وہاں سے چلے جائیں۔ | |
 | | صائمہ عادل اور ان کے بھائی وہ تصویر دکھاتے ہوئے جس میں ان کے والد ڈاکٹر نذیر احمد پاکستان کے سابق صدر رفیق تارڑ کے ایوارڈ وصول کر رہے ہیں۔ | |
 | | ڈاکٹر قدیر خان کو پاکستان کے جوہری پروگرام کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے یورپ سے جوہری سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ | |
 | | سائنسدانوں کے اہل خانہ مختلف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے حراست کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ | |
 | | مظاہرین ڈاکٹر قدیر خان کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ | |
| |   | | تازہ ترین خبریں | |
|