| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کی مذمت کا دن: قاضی
متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر اوردیگر جوہری سائنسدانوں کے خلاف حکومتی اقدامات کے خلاف چھ فروری کو ملک گیر عام ہڑتال کی کال دیدی ہےاور اعلان کیا ہے کہ اس روز جلسے ہونگے اور جلوس نکالے جائیں گے ۔ وہ اتوار کو لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے انہوں کہا کہ ایک روز قبل یعنی پانچ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر کے ساتھ ساتھ صدر پرویز مشرف کی مذمت کا دن بھی منایا جاۓ گا ۔کیونکہ بقول انکے’ ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ صدر پرویز مشرف ہیں ۔‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر اوردیگر جوہری سائنسدانوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائےگی۔اور ان کے بقول صدر پرویزمشرف کواس کا خمیازہ بھی بھگتنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اور مشرف میں فرق کریں اورخود کو ان سے الگ کریں کیونکہ مشرف اور سسٹم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔انہوں نے کہا کہ’ صدر پرویز مشرف کی عادتیں ہی خراب ہیں ‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جوہری سائنسدانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر ساری قوم صدمہ کی حالت میں ہے۔ ڈاکٹر قدیر کو وزیر اعظم کے مشیر کے عہدے سے ہٹایا جانا اور ان کی اپنی قائم کردہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں ان کے داخلے پر پابندی اس بات کی علامت ہے کہ اب ہم آزاد قوم نہیں رہےہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے کہ کسی طرح عوام کو فوج سے لڑا دیا جاۓ کیونکہ امریکہ، افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان میں بھی اسی طرح کے حالات پیدا کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔ انہوں نے ایک امریکی اخبار شکاگو ٹرائبیون کی خبر کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا کہ ’امریکہ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتاہے‘ درست ہے اور پاک افغان باڈر پر نیٹو کی فوجیں جمع ہو گئی ہیں۔ وہ اسامہ بن لادن اور ملا عمرکی تلاش کے بہانے پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے کہاکہ اگر غیر ملکی افواج نے اس طرح کی مداخلت کی اور پاکستانی فوج نے اس کا راستہ نہ روکا بلکہ اس آپریشن میں غیر ملکی فوج کے ساتھ شامل ہوگئی تو تب بھی اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جاۓگا۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کا تدارک پرامن احتجاجی تحریک کے ذریعے ہو سکتا ہے کیونکہ اگر عوام نے ہتھیار اٹھاۓ تو وہ ان کا (غیر ملکیوں) کا مقصد پورا کر دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اگر حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیتی ہے تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟ قاضی حسین احمد نےکہا کہ’میں کہتا ہوں کہ اوپن مقدمہ قائم ہواور اس کی کھلی سماعت کی جاۓ تاکہ تمام لوگوں کے چہرے کھل کر عوام کے سامنے آجائیں ۔‘ انہوں نے کہا کہ’ جب پاکستان نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہیں کیے تو پھر اگر یہ فرض بھی کر لیا جاۓ کہ پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کی ہے تو پھر بھی پاکستان نے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایم ایم اے کی سپریم کونسل کے اراکین بوجوہ موجود نہیں ہیں اس لیے فی الحال اس کی سپریم کونسل کا اجلاس نہیں بلا یا گیا ۔بعد میں سپریم کونسل کا اجلاس بلا کر ملین مارچ شروع کیا جاۓ گا اور لاہور، راولپنڈی ،اور کراچی میں ملین مارچ کیے جانے کے فیصلہ ہونگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جوہری سائنسدانوں کے معاملہ کو پارلیمان میں اٹھانے کے لیے وہ پارلیمان کے اجلاس کی ریکوزیشن دیں گے اور اس سلسلہ میں اے آر ڈی سے بھی مدد مانگی جاۓگی ۔ پریس کانفرنس میں موجود جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم نے کہا کہ پانچ اور چھ فروری کی ہڑتال میں شمولیت کے لیے ایم ایم اے کی جانب سے قاضی حسین احمد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بھی رابطے کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||