’احتجاج اب بھی ہوگا‘ قاضی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ یہ نہیں معلوم کہ جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کن حالات میں کیا اعتراف کیا ہے لیکن یہ سب کچھ علم اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت سائنسدانوں کی تذلیل اور توہین ہے اور اس پر احتجاج اب بھی کیا جائے گا۔ بی بی سی کے پروگرام ’سیر بین‘ کے میزبان مظہر زیدی سےگفتگو کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا ’اگر ڈاکٹر قدیر خان نے کچھ کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہوگا۔۔۔انہوں نے کوئی جرم تو نہیں کیا۔۔۔ہم (پاکستان) نے تو این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کا عالمی معاہدہ) پر دستخط کیے ہیں نہ ہی ہم نے سی ٹی بی ٹی (جوہری اسلحہ کی جانچ روکنے کے لئے عالمی معاہدہ) پر دستخط کیے ہیں۔ اگر ڈاکٹر قدیر خان وہاں (لیبیا اور ایران یا دیگر ممالک) میں لے گئے تو یہاں بھی تو لائے تھے۔۔۔کسی کی اجازت سے تو نہیں لائے تھے۔یہ امریکہ نے اجازت دی تھی نہ برطانیہ نے دی تھی نہ یورپی ممالک نے دی تھی۔۔۔‘ اس سوال پر کہ ڈاکٹر قدیر نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو منتقل کی، قاضی حسین احمد نے کہا ’ہمیں پتہ بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کیا بیان دیا ہے؟ کس طرح دیا ہے؟ انہوں (سائنسدانوں سے تفتیش کرنے والے خفیہ اداروں) نے کس طرح ایکسٹریکٹ کیا ہے۔۔۔یہ تو سب تذلیل و توہین ہے جو سائنسدانوں کی ہورہی ہے۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہمیں ایٹمی اسلحے سے مسلح کیا ہے۔۔۔ان کو مینڈیٹ دیا گیا تھا، کہا گیا تھا کہ جو طریقہ استعمال کرنا چاہیں کریں، جتنے پیسے چاہیں لے لیں اور ہمیں ایٹمی اسلحہ دے دیں، ہمیں اس سے مسلح کردیں۔۔۔اور انہوں (ڈاکٹر قدیر خان) نے بہت بڑا احسان کیا ہے اپنی قوم پر۔۔۔احسان کا جواب یہ ہے کہ ہم ان کو عزت سے رکھیں۔۔۔ان (ڈاکٹر قدیر) کو اس طرح سے غیر ملکی خفیہ اداروں اور خود اپنے خفیہ اداروں کے حوالے کرکے ان سے اس طرح بیانات ایکسٹریکٹ کرکے جیسے ملزموں سے یا مجرموں سے کیے جاتے ہیں یہ تذلیل و توہین ہے اور قومی مذاق ہے اور ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اس کی پوری ذمہ داری پرویزمشرف پر ہے۔‘ ڈاکٹر قدیر کی بیش قیمت جائیداد و مال و دولت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ’یہ آپ ذرا پرویز مشرف سے پوچھیں کہ انہوں نے اب تک کتنی جائیداد بنائی ہے؟ ان میں سے کون سا ایسا ہے جس نے یہ جائیداد نہیں بنائی؟‘ اس سب کے بعد بھی ڈاکٹر قدیر خان کی حمایت میں احتجاجی تحریک چلانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا ’ہم پہلے سے بھی زیادہ پرجوش انداز سے تحریک چلائیں گے۔۔۔جس طرح پہلے بھی چلائی تھی ہم اسی کی تو مخالفت کرتے ہیں کہ ہمارے سائنسدانوں کی تذلیل و توہین کر رہے ہیں۔ اور یہ صرف سائنسدانوں کی نہیں بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف اقدامات کررہے ہیں اور یہ اس سازش میں شریک ہیں کہ مسلمانوں کو ایمان کے ساتھ ٹیکنالوجی نہ ملے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||