نیوکلیئر سپلائرز پاکستان آئیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ اور جوہری برآمدات پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے چوالیس ممالک پر مشتمل تنظیم نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے وفد کی پاکستان کا دورہ کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے تاہم اس دورے کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں پاکستان نے اس گروپ کا ممبر بننے کی درخواست کی ہے۔ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا کام ممبر ممالک میں جوہری برآمدات کو روکنا ہے تاکہ کوئی بھی ممبر ملک کسی دوسرے ملک کو جوہری طاقت بننے میں مدد نہ دے سکے۔ پاکستان کے جوہری سائنسدان اور ملک کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گزشتہ برس اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے ایران،شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی، بین الاقوامی برادری میں جوہری معاملے پر خاصی تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ پاکستان کی پارلیمان نے بھی گزشتہ برس جوہری برآمدات پر قابو پانے کا ایک قانون بھی پاس کیا تھا تاہم ذرائع ابلاغ میں گزشتہ ایک برس میں کافی رپورٹیں شائع کی گئی ہیں جن میں پاکستان کے جوہری پروگرام کی حفاظت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام کڑی نگرانی میں ہے اور اس کو کوئی انتہا پسند اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان اطلاعات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے لیے ابھی بھی بین الاقوامی جوہری بلیک مارکیٹ سے خریداری کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو کسی بھی بیرونی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||