پاکستان سینٹریفیوج حوالے کرے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کےجوہری ادارے آئی اے ای اے کواپنے جوہری پروگرام میں استعمال شدہ سینٹریفیوج کے حصے فراہم کرئے گا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جاری تحقیقات میں مدد مل سکے۔ پاکستان نے دو دن پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبد القدیر نے ایران کو سینٹریفیوج پارٹس فراہم کیے تھے۔ پاکستان حکومت کا موقف رہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے کا ڈاکٹر عبد القدیر کا ذاتی فعل تھا اور حکومت پاکستان اس میں ملوث نہیں ہے۔ ڈاکٹر قدیر نے سینٹرفیوج پارٹس ایران کو کیسے منتقل کیے ، حکومت اس کی کوئی وضاحت نہیں کرتی ہے۔ سینٹریفیوج پارٹس یورینیم کو اس حد تک افزودہ کرنے میں مدد دیتے ہیں تاکہ اس کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یا بطور ایندھن استعمال کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ آئی اے ای اے سے حاصل شدہ سینٹرفیوج کو ٹیسٹ کرئے گا تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام میں استعمال ہونے والے سیٹریفوج اور ایران کے جوہری پروگرام سے حاصل ہونے والے سینریفیوج میں کوئی مماثلت ہے۔ امریکہ ایران پر الزامات لگاتا رہا ہےکہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران امریکی الزامات کی تردید کرتا ہے ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||