جوہری ٹیکنالوجی: منتقلی کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر قدیر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بارہ صفحات پر مشتمل ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کام میں ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ دو ریٹائرڈ بریگیڈیر بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر قدیر نے یہ بیان مسسل آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والی تفتیش میں دیا جس کے بعد اب انہیں ذرائع کے مطابق ’انتہائی کڑی حفاظت‘ میں لے لیا گیا ہے اور انہیں کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں۔ ڈاکٹر قدیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا اقدام اس لیے کیا کہ یہ ٹیکنالوجی کچھ اور مسلمان ملکوں کو بھی منتقل ہو اور پاکستان پر بیرونی دنیا خاص طور پر امریکی دباؤ میں کمی آئے۔ تاہم ذرائع کے مطابق وہ اس بات کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکے کہ انہوں نے یہ ٹیکنالوجی شمالی کوریا کو کیوں منتقل کی۔ ان کے ساتھ جن دوسرے لوگوں کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں ڈاکٹر اشرف عطا، ڈاکٹر یٰسین چوہان، اعزاز جعفری، منصور، نجم الدین، اور ریٹائرڈ بریگیڈیر سجاول اور برگیڈیر تاجور شامل ہیں۔ اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی لندن کے آصف جیلانی کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ذرائع ڈاکٹر قدیر کے بارے میں گرفتاری یا حراست کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو یہ بتایا گیا ہے کہ اب معاملہ اس حد تک کھل گیا ہے اور انہیں کوئی غیر ملکی خفیہ ایجنسی قتل کر سکتی ہے اس لیے انہیں غیر محفوظ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب ان سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں۔ ان ذرائع کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے کچھ عرصہ قبل کچھ چیزیں پاکستان سے باہر بھیجنے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کسی اور کے ہاتھ لگتیں آئی ایس آئی نے انہیں اپنے قبضے میں کر لیا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جن بارہ لوگوں سے اب تک تفتیش کی جا رہی تھی ان میں چار یا پانچ کے علاوہ باقی لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اب ڈاکٹر قدیر کے بیان پر نئی تحقیقات ہوں گی اور نئی گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔ اس علاوہ ڈاکٹر قدیر کے بارے میں ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان پر مقدمہ چلے گا یا نہیں اور اگر چلے گا تو کہاں چلے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ ایٹمی توانائی کی کمانڈ کونسل کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||