| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نظر بندی یا حفاظتی انتظامات؟
پاکستان کے جوہری راز مبینہ طور پر فروخت کرنے کے سلسلے میں جن سائنسدانوں سے تفتیش کی جارہی ہے ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کے نام اگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ظاہر سے جن لوگوں سے تفتیش کی جا رہی ہے ان کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ڈاکٹر خان کی نظر بندی کے بارے میں چھپنے والی خبروں پر تبصر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان کی رہائش گاہ پر سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں سے تفتیش شروع ہونے کے بعد ڈا کٹر خان کی معمول کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے خفیہ اداروں کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنہوں نے ملک کو جوہری طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس وجہ سے ایک قومی ہیرو کی حیثیت سے سامنے آئے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ جب کہ ڈاکٹر محمد فاروق جو خان ریسرچ لیبارٹری میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے گزشتہ کئی ماہ سے خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ڈاکٹر قدیر خان کے قریبی ذرائع سے اطلاع دی ہے کہ ڈاکٹر خان کو حراست میں تو نہیں لیا گیا لیکن انہیں اپنی رہائش گاہ پر محصور کر دیا گیا ہے۔ صدر جنرل مشرف نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جن سائنسدانوں نے ذاتی مفاد کے لیے ملک کے جوہری راز فروخت کئے ہیں ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہ چند’ بے ضمیر‘ سائنسدانوں نے پیسے کے لالچ میں جوہری راز فروخت کئے ہوں گے۔ صدر جنرل مشرف نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کے اس معاملے میں ملوث ہونے کی خبروں کی تردید کی۔ اطلاعات کے مطابق ان سائنسدانوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور ان کے ایسے بینک اکاونٹس کا سراغ ملا ہے جس میں لاکھوں ڈالر جمع ہیں۔ حکومتی ذرائع اس قسم کی خبریں بھی دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے ٹھوس ثبوت مل گۓ ہیں اور حکومت ان کے اثاثوں اور اکاؤنٹس منجمد یا ضبط کرنے کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ایک یا دو لوگوں نے ذاتی مفاد کے لیے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اور قومی اثاثوں کی معلومات کی منتقلی میں پیسہ بھی ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے مال بنایا اسے اب بھگتنا ہوگا اور ایسے لوگوں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||