| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری ٹیکنالوجی: حکومتی پسپائی؟
لگتا ہے کہ ایٹمی سائسندانوں کی تفتیش کےمعاملہ پر اور خصوصاً پاکستان کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر کی حد تک حکومت پیچھے ہٹ رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے جمعرات کو یہ کہا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ڈاکٹر عبدالقدیر اب تک مشتبہ نہیں اور انھیں نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ان سے پوچھ گچھ ہورہی ہے البتہ ان کا نام اس لیے بار بار آرہا ہےکہ وہ ایٹمی پروگرام کے انچارج رہے۔ یہ شاید اتفاق ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کے حوالے سے حکومتی وزراء کے اعلانات میں نرمی اس روز سامنے آئی جب مسلح افواج کے سربراہوں، جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف اور دوسرے اعلی فوجی حکام کا ایک اجلاس اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وزیرداخلہ کا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں تازہ ترین موقف اس سے پہلے حکومتی اعلانات سے مختلف ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اور وزیر اطلاعات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر سے بھی پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے تو چند دن پہلے تک یہ کہا تھا کہ ابھی ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کسی کو کلئیر نہیں کیا گیا۔ تاہم حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو حراست میں رکھنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے اور ان کے گھر کے باہر سیکیورٹی سٹاف کی تعداد میں اضافے کو ان کی نظر بندی کے بجاۓ ان کی حفاظت قرار دیا۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے پاکستان کے میڈیا میں ڈاکٹر عبدالقدیر پر بڑے الزامات کی خاصی تشہیر کی گئی ہے ان میں کہا گیا کہ انھوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی اور نیوکلئیر بلیک مارکیٹ سے منسلک رہے اور یہ کہ انھوں نے بہت اثاثے اور دولت بنائی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں الزمات اس طرح اچھالے گۓ اور ان کے قریب ترین دوستوں کواس طرح گرفتار کیا گیا کہ جو لوگ پاکستان کے اخبارات کے طریق کار کو سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ ماننا مشکل تھا کہ یہ سب کچھ حکومت کی مرضی کے بغیر ہوسکتا ہے۔ تاہم ایٹمی سائنسدانوں سے تفتیش کےمعاملہ پر اخبارات میں جو ردعمل سامنے آیا اور راۓ عامہ سے ملنے والے ہر اشارے سے یوں لگا کہ حکومت کی کاروائیوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان آرمی کے سابق سربراہ اسلم بیگ نے تو کہا ہے کہ اگر ایٹمی سائنسدانوں نے ایران، لیبیا اور انڈر ورلڈ سے تعلقات رکھے ہیں تو کوئی جرم نہیں کیا۔ خود پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی بلیک مارکٹ سے حاصل کی جس کا علم امریکہ سمیت ساری دنیا کو ہے۔ اسرائیل اور ہندوستان نے بھی اسی طرح ایٹمی صلاحیت حاصل کی۔ خود حکومتی جماعت کے سیکرٹری جنرل سلیم سیف اللہ نے کھلے عام کہا کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر نے کچھ کیا بھی ہے تو بھی ان سے نرمی برتی جائے کیونکہ ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن حالات میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے بم بنا کر دیا ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ان کے بارے میں کوئی منفی سوچ بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ ایک دو روز پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں الزامات شائع کراۓ جارہے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ جنھیں قوم ہیرو سمجھتی تھی وہ کیا کچھ کرتے رہے اور جنھوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی انھیں سزا ضرور ملے گی۔ لیکن اب ایسی خبریں کسی انتساب کے بغیر سیکیوٹی حکام کے حوالے سے شائع ہورہی ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے علاوہ دو سائنسدانوں پر فرد جرم لگا دی جاۓ گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے وقتی طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر پر سے الزامات سے بری قرار دے رہی ہے اور کچھ وقفہ سے اپنا کام دوبارہ شروع کرے گی یا یہ کہ ایٹمی سائسندانوں کے خلاف جو مہم چلائی گئی تھی حکومت اس سے مستقل پیچھے ہٹ رہی ہے کہ اس کا ردعمل سنبھالنا حکومت کو خاصا مشکل لگ رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||