BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 January, 2004, 20:14 GMT 01:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پھیلاؤ: خمیازہ کیا ہوگا؟

جوہری ٹیکنالوجی کی دیگر ممالک کو فراہمی اور اس میں پاکستانی سائنسدانوں اور تجربہ گاہوں سے متعلق دیگر افراد کا مبینہ طور پر ملوث ہونا پاکستان کے لئے اقوام عالم میں شدید خجالت کا باعث بن چکا ہے۔

جہاں پاکستانی شہری موجودہ تحقیقات کے نتائج کے شدت سے منتظر ہوں گے وہاں پاکستان سے باہر کی دنیا بھی اپنے چند سوالوں کے جوابات کی بے چینی سے متلاشی ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے یہ وضاحت پیش کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کی فراہمی میں حکومت یا ریاست ملوث نہیں تھی البتہ ہو سکتا ہے کہ بعض سائنسدانوں نے لالچ میں آ کر ایسا کیا ہو۔ اتنی حساس ٹیکنالوجی سے متعلق سائنسدانوں کا بے لگام ہو جانا کچھ کم تشویش کی بات نہیں، اس پر مستزاد یہ کہ یہ حرکت کے آر ایل جیسے ادارے سے سرزد ہوئی ہو جو ہمہ وقت انتہا درجے کے پہرے میں ہوتا ہے۔

سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر ہتھیاروں کا پروگرام روز اول سے فوجی پروگرام رہا ہے اور اس کی ہر سرگرمی پر سخت ترین پہرہ لگا ہوتا ہے۔ اب یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایران کو جو ٹیکنالوجی فراہم کی گئی وہ سوٹ کیسوں میں چھپا کر نہیں لے جائی سکتی۔ اتنا ساز و سامان ٹرکوں میں بھر کر بھیجا گیا ہو گا۔ یہ سب کچھ سخت پہرے کے باوجود کیونکر ممکن ہوا؟

اس پر دو سوالات ابھرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا یہ سب کچھ پاکستانی حکومت کی مرضی سے کیا گیا اور اگر حکومت سے چھپا کر چند افراد نے ذاتی منفعت کی خاطر یہ کارگزاری دکھائی تو کیا پاکستان کی نیوکلیئر تنصیبات پر پہرہ اس قدر ناقص ہے؟

 حکومت کا یہ موقف کہ ٹیکنالوجی کو چند سائنسدانوں نے لالچ کی بنا پر بیچ ڈالا، ایٹمی پروگرام کو بچانے کی بجائے اسے شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
اے ایچ نیّر

ممکن ہے کہ اگر واقعی یہ بات سچ نکلے تو پاکستان خود کو پابندیوں سے بچا لے۔ مگر دوسرا سوال بہت اہم ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ چند لالچی سائنسدانوں اور ان کے فوجی پہرے داروں نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی دولت کے لالچ میں دوسرے ممالک کو بیچی ہے تو اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام غلط ہاتھوں میں جانے سے ہر گز محفوظ نہیں۔

دیگر ممالک یہ پوچھ سکتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اقوام عالم کو کس طرح یہ یقین دلائے گی کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی، ایٹم بم یا ایٹم بم تیار کرنے کے لئے درکار افزودہ یورینیم غلط ہاتھوں میں یعنی بین الاقوامی دہشت گردوں کے پاس قطعاً نہیں پہنچا ہو گا؟ یقین دلانے اور ثابت کرنے کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی جائے گی۔ پاکستانی حکومت لاکھ کہتی رہے کہ ہم یقین دلاتے ہیں، لیکن ایران وغیرہ کے واقعات کے بعد کوئی بھی ماننے پر آمادہ نہیں ہو گا۔ اقوام عالم اصرار کریں گے کہ ایسے اقدامات کرو کہ ہمیں یقین آ جائے۔

یہ دونوں سوالات پاکستان کے لئے شدید پریشانی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کن کن ممالک کو فراہم کی گئی؟

اگر حکومت پاکستان اس کام میں شریک تھی تو دنیا کا متوقع ردِعمل یہی ہو گا کہ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ کوئی ایسا بین الاقوامی قانون موجود نہیں ہے جو دنیا کو پابندی لگانے پر مجبور کرتا ہو، مگر دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام سے ناخوش ہیں۔ انہیں پابندیاں لگوانے کا موقع ملے گا۔

اگر مستقبل میں یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ پاکستانی ٹیکنالوجی لیبیا اور شمالی کوریا کو بھی فراہم کی گئی تھی تو پابندیوں کا جواز مزید بڑھ جائے گا۔

پاکستان یہ کہہ سکتا ہے اور اس کی ایران وغیرہ سے تصدیق بھی کروائی جا سکتی ہے کہ یہ معاملات بارہ پندرہ سال پہلے اس دور کی حکومتوں نے طے کئے تھے اور یہ کہ آج کی حکومت پر، جو بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف دنیا سے اس قدر تعاون کر رہی ہے، اس دور کے الزامات لگانا اور اس کی سزا دینا نامناسب ہے۔

سائنسدانوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

وہ اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟ وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام اور اس کی تمام تنصیبات بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لئے کھول دے، ہر تنصیب کا تمام ریکارڈ ان کے سامنے رکھ دے جس سے وہ خود دیکھ لیں کہ تمام مدت میں کتنا یورینیم افزودہ ہوا، کتنا کتنا ہر ایٹم بم میں استعمال ہوا، کتنے بم بنائے جا چکے ہیں، کتنا یورینیم بچا ہوا ہے، وغیرہ وغیرہ تاکہ وہ حساب کر کے خود دیکھ لیں کہ کلوگرام کلوگرام تک کا حساب مل جائے اور یہ اندیشہ نہ رہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں بم پہنچ چکا ہو گا۔

اس سے پہلے کبھی کسی نیوکلیئر طاقت کو اس طرح جواب دہ نہیں ہونا پڑا۔ اس کا لامحالہ اثر پاکستان کے نیوکلیئر ڈیٹرینٹ پر پڑے گا، جو نتیجتاً کمزور پڑ سکتا ہے۔

تاہم پاکستانی حکومت اس پر شاید اس لئے آمادہ ہو جائے کہ بصورت دیگر اس پر دباؤ پڑ سکتا ہے کہ اپنا ایٹمی پروگرام سرے سے ہی ختم کر دے۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ حکومت کا یہ موقف کہ ٹیکنالوجی کو چند سائنسدانوں نے لالچ کی بنا پر بیچ ڈالا، ایٹمی پروگرام کو بچانے کی بجائے اسے شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنا جوہری پروگرام جس انداز میں چلایا اور جو شاید اس کی کامیابی کا باعث بھی بنا، اس کے بعد اس میں غیر ذمہ دار رویہ پائے جانے پر تعجب بھی نہیں ہوتا۔ اس پروگرام کو ہنگامی بنیادوں پر چلایا گیا۔

پروگرام کے دوحصے تھے: ایک اٹامک انرجی کمیشن کے تحت اور دوسرا کہوٹہ کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں۔ اولذکر میں قاعدہ، قانون، جواب دہی سب شامل تھے جبکہ دوسرے میں ان سب کا فقدان رہا۔ افراد کو بے حساب پیسہ دے کر جواب دہی سے بری الذمہ کر کے دنیا بھر کے سپلائرز کو مبینہ طور پر رشوت دے کر جہاں چند ہی سالوں کی قلیل مدت میں مقصد اولی حاصل کر لیا گیا، وہاں ایک خاص قسم کی سوچ پرورش پاتی رہی۔

اس میں قاعدہ اور قانون سے سرکشی اور adventurism دونوں شامل تھے اور اگر اس پروگرام کو بعد ازاں ملک کی سیاسی قیادت کے ماتحت کر دیا جاتا تو اس رویے پر گرفت پائی جا سکتی تھی۔ یہ نہیں ہوا۔

لہذا وہ افراد جو کسی کو جواب دہ نہیں تھے انہیں یہ اختیار بھی حاصل رہا کہ وہ ممکنہ طور پر ٹیکنالوجی کو پھیلا دیں۔ چنانچہ اگر موجودہ بحران کے لازمی نتیجے کے طور پر پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام خطرے کا شکار ہوا تو یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ جس روش نے ایٹم بم کے امکان کو حقیقت کا روپ دیا، وہی اسے ڈبو بھی سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد